افسانوی راک بینڈ ‘گریٹ فل ڈیڈ’ کے شریک بانی اور ممتاز ریڈم گٹارسٹ باب وئیر 78 برس کی عمر میں اپنے خالق سے جا ملے۔ طبی ذرائع کے مطابق وہ طویل علالت کے بعد پھیپھڑوں کی پیچیدگیوں اور کینسر کے باعث وفات پا گئے۔
وئیر نے حال ہی میں سان فرانسسکو کے گولڈن گیٹ پارک میں منعقدہ تین روزہ کنسرٹ سیریز کے دوران اپنے موسیقی کے ساٹھ سال مکمل کرنے کا جشن منایا تھا، جو ان کی آخری عوامی پرفارمنس ثابت ہوئی۔ انہوں نے 1965 میں جیری گارسیا کے ہمراہ گریٹ فل ڈیڈ کی بنیاد رکھی تھی، جو آگے چل کر دنیا کے سب سے بااثر راک بینڈز میں سے ایک بن گیا۔
باب وئیر کو بینڈ کے متعدد شاہکار گانوں میں مرکزی آواز دینے کا اعزاز حاصل ہے جن میں ‘ٹرکن’، ‘شوگر میگنولیا’، ‘پلےنگ ان دی بینڈ’ اور ‘جیک اسٹرا’ جیسے یادگار نغمے شامل ہیں۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ نے انہیں “راک موسیقی کی تاریخ کا سب سے غیر معمولی اور بااثر ریڈم گٹارسٹ” قرار دیا ہے۔
1995 میں جیری گارسیا کے انتقال کے بعد، وئیر نے اپنے سولو کیرئیر کو جاری رکھا اور مختلف اوقات میں گریٹ فل ڈیڈ کے دیگر اراکین کے ساتھ ری یونین منصوبوں میں بھی حصہ لیا۔ ان کی زندگی پر 2014 میں ‘دی آدر ون: دی لانگ، اسٹرینج ٹرپ آف باب وئیر’ کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم بھی بنائی گئی۔
باب وئیر نے نہ صرف موسیقی کے میدان میں بلکہ سماجی خدمات کے شعبے میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ 2017 میں انہیں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کا خیرسگالی سفیر مقرر کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے غربت کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔
16 اکتوبر 1947 کو کیلیفورنیا میں پیدا ہونے والے باب وئیر اپنی اہلیہ ناتاشا مونٹر اور دو بیٹیوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی وفات نے دنیا بھر کے لاکھوں مداحوں کو سوگوار کر دیا ہے، جن کے دل میں ان کی موسیقی اور انسان دوست خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
دیکھیں: ترکی کا سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی اتحاد میں شمولیت کا امکان