لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے معروف صحافی شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ جیو نیوز کے پروگرام میں 3 فروری 2026 کو گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان میں دہشت گردی، بیرونی سرپرستی اور صوبے کو درپیش سماجی و معاشی چیلنجز پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو ملک کے تقریباً 43 فیصد رقبے پر مشتمل ہے، مگر اس کی آبادی نسبتاً کم ہے جو تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ کے قریب ہے۔
آبادی، روزگار اور ریاست کی ذمہ داری
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض کے مطابق صوبے میں 19 سے 40 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً 40 سے 50 لاکھ کے درمیان ہے، جنہیں روزگار کے مواقع درکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسی ریاست کے لیے اس آبادی کو روزگار فراہم کرنا کوئی ناممکن کام نہیں، بشرطیکہ مربوط منصوبہ بندی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔
سیاسی قیادت اور نجی شعبے کا کردار
انہوں نے زور دیا کہ اس ضمن میں وفاقی، صوبائی، ضلعی اور مقامی سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ بڑے کاروباری گروپس کو بھی ریاست کے ساتھ مل کر فعال کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ ترقی اور روزگار کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
مقامی حکومت اور ضلعی سطح پر ترقی
گفتگو کے دوران بتایا گیا کہ بلوچستان کے ان اضلاع میں جہاں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اور انہیں فنڈز فراہم کیے گئے ہیں، وہاں مقامی حکومت کا نظام مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے۔ ان کمیٹیوں کے ذریعے مقامی نمائندوں کے تعاون سے ضلعی سطح پر ترقیاتی پروگراموں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جس سے گورننس بہتر ہوئی ہے۔
ریکو ڈیک منصوبہ اور وسائل سے متعلق بیانیہ
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے واضح کیا کہ یہ تاثر محض پروپیگنڈا ہے کہ ریکو ڈیک جیسے منصوبے بلوچستان کے وسائل پر قبضے یا استحصال کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبے میں بلوچستان حکومت کا 25 فیصد حصہ ہے اور صوبائی حکومت کو اس کے آپریشنز اور مینجمنٹ پر کنٹرول حاصل ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے صوبے میں آمدنی میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور مقامی افراد کے لیے ہنر مندی کی ترقی متوقع ہے۔
دہشت گردی کا مقصد اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا
انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر چاغی اور اس کے گرد و نواح میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ریکو ڈیک جیسے اہم منصوبوں کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ اسی طرح گوادر میں مزدوروں کو نشانہ بنانا دراصل گوادر پورٹ اور اس سے وابستہ ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
عوام کو ورغلانے کی سازشیں
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا کہ بلوچ عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دشمن عناصر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گرد اپنے بیرونی آقاؤں سے کبھی کچھ حاصل نہیں کر پاتے بلکہ انہیں محض تباہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
پرامن جدوجہد اور آئینی راستہ
انہوں نے واضح کیا کہ آئینی حدود کے اندر پرامن سیاسی جدوجہد ہر شہری کا حق ہے، تاہم ریاست کے خلاف دہشت گردی اور تشدد کسی صورت قابلِ جواز نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حقوق کی بات کرنے میں کوئی قباحت نہیں، لیکن اس کے لیے ہتھیار اٹھانا درست راستہ نہیں۔
بلوچ عوام کے مسائل اور ریاست کی ذمہ داری
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے تسلیم کیا کہ بلوچ عوام کے حقیقی مسائل موجود ہیں اور ان کے حل کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ان مسائل کا حل آئینی اور پرامن دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے ہی ممکن ہے۔
علاقائی مثالیں اور انتباہ
گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ چاہے عراق ہو، لیبیا یا شام، بیرونی طاقتوں نے مقامی لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور بعد میں انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی ریاست کا دل اور دماغ اتنا بڑا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو معاف اور ساتھ لے کر چل سکتی ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ بعض افراد نے غلط راستہ اختیار کر لیا ہے۔