چین کے مستقل مندوب لی سونگ نے امریکی نائب وزیر خارجہ تھامس جی ڈینانو کے ان حالیہ الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں بیجنگ پر خفیہ جوہری تجربات کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ چینی مندوب نے ان دعوؤں کو “بے بنیاد” اور “غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن دراصل اپنے جوہری تجربات کے دوبارہ آغاز کے لیے جھوٹے بہانے تلاش کر رہا ہے۔
چین کی تردید
لی سونگ نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی انڈر سیکرٹری برائے اسلحہ کنٹرول نے جنیوا کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ چین نے جون 2020 میں ایک خفیہ جوہری دھماکہ کیا تھا۔ اس اشتعال انگیز بیان کے فوری بعد “جوہری تجربات پر مکمل پابندی کے معاہدے” کی تنظیم کے ایگزیکٹو سیکرٹری ڈاکٹر رابرٹ فلائیڈ نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا۔ ڈاکٹر فلائیڈ نے سائنسی شواہد کی بنیاد پر واضح کیا کہ بین الاقوامی مانیٹرنگ سسٹم پر مذکورہ تاریخ کو ایسا کوئی واقعہ یا غیر معمولی لہر ریکارڈ نہیں ہوئی جو کسی جوہری دھماکے کی نشاندہی کرتی ہو۔ چینی مندوب کے مطابق عالمی ادارے کی یہ گواہی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا محض سیاسی مفادات کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے۔
امریکی بالادستی کا ایجنڈا
چینی مندوب کا کہنا تھا کہ امریکا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیجنگ کی جوہری پالیسی کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس پروپیگنڈے کی اصل غرض اپنی جوہری بالادستی کو برقرار رکھنا اور تخفیفِ اسلحہ کی ان ذمہ داریوں سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے جو عالمی معاہدوں کے تحت امریکا پر لازم ہیں۔ لی سونگ نے سخت الفاظ میں کہا کہ امریکا اس وقت بین الاقوامی جوہری نظم و ضبط کے لیے سب سے بڑا منفی کردار بن چکا ہے اور وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کا عادی ہے۔ چین کا موقف ہے کہ امریکا خود نئے ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے اور ان تجربات کو جواز فراہم کرنے کے لیے چین کو نشانہ بنا رہا ہے۔
چین کا عالمی عہد
لی سونگ نے اس بات توجہ دلائی کہ چین 1996 سے جوہری تجربات پر پابندی کے اپنے عہد پر سختی سے قائم ہے اور اس نے کبھی بھی کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ چین کی جوہری حکمت عملی ہمیشہ دفاعی نوعیت کی رہی ہے اور وہ ‘پہلے ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنے’ کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ امریکہ کے ان غیر ذمہ دارانہ بیانات کا نوٹس لے جو عالمی سلامتی کے ڈھانچے کو کمزور کر رہے ہیں۔
دیکھیے: پاکستان اور چین کی بندرگاہوں سے وسطی ایشیا تک تجارتی روابط مضبوط کرنے کو کوششیں