ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان تحریک انصاف کے جاری دھرنے کے باعث راستے بند ہونے کے نتیجے میں ایک کمسن بچی کے جاں بحق ہونے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق بچی دمے کی مریضہ تھی اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ راولپنڈی سے رشتہ داروں کی شادی میں شرکت کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان آئے تھے۔ واپسی کے دوران وہ سڑکوں کی بندش کے باعث دھرنے میں پھنس گئے۔ بچی کی طبیعت بگڑنے پر والدہ نے مظاہرین سے راستہ دینے کی درخواست کی، تاہم خاندان کا دعویٰ ہے کہ انہیں فوری طور پر گزرنے کی اجازت نہ مل سکی۔
خاندان کے مطابق بچی کی حالت تشویشناک ہونے پر والدہ نے اسے گود میں اٹھا کر کئی گھنٹوں تک پیدل سفر کیا تاکہ کسی متبادل راستے سے ہسپتال پہنچا جا سکے۔ تاہم جب وہ طبی مرکز پہنچے تو ڈاکٹروں نے بچی کے انتقال کی تصدیق کر دی۔
واقعے کے بعد اہل خانہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران ہنگامی طبی صورتِ حال کے لیے راستہ یقینی بنانے کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت رسائی مل جاتی تو شاید بچی کی جان بچائی جا سکتی تھی۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور دھرنے کے باعث شہریوں کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ہنگامی گاڑیوں اور مریضوں کے لیے خصوصی راستے مختص کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج آئینی حق ہے، تاہم عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام فریق انسانی ہمدردی کو ترجیح دیں اور ہنگامی حالات میں فوری رسائی کو یقینی بنائیں۔