پاکستانی ٹیلی ویژن اسکرین پر نشر ہونے والے ڈرامے ہمارے معاشرے کی عکاسی کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے یہ رجحان شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ تفریح اور جدیدیت کے نام پر اسلامی شعائر، بالخصوص شرعی پردے اور حیا کو ہدفِ تنقید بنایا جائے۔
ان دنوں پاکستانی ٹی وی چینلز پر آن ایئر ہونے والا ڈراما سیریل حرمت اسی فکری انحراف کی ایک انتہائی افسوسناک مثال بن چکا ہے۔ اس ڈرامے نے نہ صرف ناظرین میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے بلکہ اس سوال کو بھی جنم دیا ہے کہ ایک اسلامی مملکت میں نظریاتی اقدار پر اس طرح کے حملے کتنے درست اور قابلِ برداشت ہیں۔
پردے کی تضحیک
ڈرامے کی بنیادی کہانی ایک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو ایک روایتی اور مذہبی پس منظر سے تعلق رکھتی ہے اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے یونیورسٹی کے ماحول میں قدم رکھتی ہے۔ یہاں سے اس کے سفر کو ایک ایسے منفی زاویے سے دکھایا گیا ہے جہاں علم کی روشنی پھیلانے کے بجائے مرکزی کردار کی اسلامی شناخت اور شرعی پردے کو طنز و تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ڈرامے کے مختلف مناظر میں یونیورسٹی کی دیگر طالبات کی زبان سے شرعی پردے کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور عبایا کو نہایت توہین آمیز الفاظ جیسے چار میٹر کا تمبو سے پکارا جاتا ہے۔ اس قسم کے مکالمے نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ نوجوان نسل کے ذہنوں میں مذہبی اقدار کے خلاف زہر گھولنے کا ایک منظم طریقہ کار معلوم ہوتے ہیں۔
نام نہاد آزادی تک کا سفر
اسکرپٹ کی منصوبہ بندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے مرحلے میں پردہ دار لڑکی کو کلاس روم اور کیمپس میں ایک عجیب، غیر متوازن اور دورِ جاہلیت کی یادگار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس کے اندر گہرا احساسِ کمتری پیدا ہو۔ اگلے مرحلے میں آزادی، روشن خیالی اور ترقی کے خوشنما نعروں کے تحت اسے لڑکوں کے ساتھ بے تکلف ہونے اور کیمپس کی فضا میں گھلنے ملنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
کہانی کا انجام اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کا نقاب اور برقعہ اتروا کر اسے جدید دور کی ایک کامیاب لڑکی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بیانیہ اس خطرناک نظریے کو پروان چڑھا رہا ہے کہ کامیابی، اعتماد اور ترقی صرف بے پردگی اور مغربی طرزِ زندگی سے ہی وابستہ ہیں۔
ایک سوالیہ نشان
جب اس طرح کا مواد سرکاری یا نجی ٹیلی ویژن نیٹ ورکس پر پرائم ٹائم میں نشر ہوتا ہے، تو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کیا واقعی ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جو اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا؟ ان مناظر کو دیکھ کر ایک عام مسلمان اور محبِ وطن شہری کے دل میں یہ تلخ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیوں ہماری اقدار کو ہماری ہی سکرینوں پر کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔
اس طرح کے ڈرامے نہ صرف معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کرتے ہیں بلکہ بیرونِ دنیا بھی ہمارے تشخص کو مسخ کرتے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی دردناک ہے کہ جہاں اسلامی شعائر کا احترام ہونا چاہیے تھا، وہیں انہیں تماشا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
فیملی ولاگنگ کا ناسور
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس وسیع تر پس منظر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس میں آج کل ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پر فیملی ولاگنگ کا ناسور پہلے ہی ہمارے اخلاقیات کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ ویوز، لائکس اور مالی منافع کی ہوس میں پردے، حیا، اور خلوت کی روایات کو سرِ عام بازارِ عام میں نیلام کیا جا رہا ہے۔
جب ایک طرف سوشل میڈیا پر پرائیویسی اور اخلاقی حدود کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہوں اور دوسری طرف مین اسٹریم ٹیلی ویژن پر باقاعدہ اسکرپٹ لکھ کر شرعی پردے اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا جائے، تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ ہمارا پورا میڈیا سسٹم ایک گہرے اخلاقی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔
فوری لائحہ عمل
یہ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی اور وزارتِ اطلاعات و نشریات اپنی آئینی و اخلاقی ذمہ داری کا احساس کریں۔ ڈراما سیریل حرمت کی نشریات پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے تاکہ آئندہ کسی بھی پروڈکشن ہاؤس کو اسلامی اقدار کے ساتھ کھیلنے کی جرأت نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا ہاؤسز کے لیے ایک سخت اور غیر لچکدار ضابطہ اخلاق نافذ کیا جائے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ تفریح کے نام پر مذہب، شعائرِ اسلام اور قومی روایات کی تضحیک کا یہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند ہو سکے۔





