اسلام آباد میں جب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی فزکس میں گولڈ میڈلسٹ لائبہ اعجاز کی بے حس و حرکت لاش ملی تو پورا ملک سکتے میں آ گیا۔ ایک ایسی بیٹی، جس کے غریب والد نے دودھ بیچ کر اور اپنا واحد پلاٹ فروخت کرکے ہارورڈ جیسے عالمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب پورا کرنے کی کوشش کی تھی، وہ تعلیم اور مہارت کے باوجود ایک ایجوکیشن کنسلٹنٹ اور ایجنٹ کے ہتھکنڈوں کا شکار ہو گئی۔ ویزا اور پروسیسنگ کے نام پر لاکھوں روپے ہتھیا لیے گئے اور جعلی اسناد تھما دی گئیں۔
جب تعلیمی خواب بکھر گیا اور باپ کا سارا اثاثہ ڈوب گیا تو اس ہونہار لڑکی نے خودکشی کر لی۔ لائبہ کا یہ المیہ تنہا نہیں، بلکہ اسی تاریک راستے کی ایک اور بھیانک تصویر یونان کے ساحل پر ڈوبنے والی ’ایڈریانا‘ کشتی کا سانحہ ہے، جہاں 262 سے زائد پاکستانی نوجوان یورپ پہنچنے کے شوق میں سمندر کی نذر ہو گئے، جبکہ لیبیا کے ٹارچر سیلز اور مراکش کی سرحد پر ہر روز درجنوں خاندان اپنے جگر گوشوں کی لاشوں کا سوگ مناتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ڈنکی اور ایجنٹ سسٹم ہے کیا؟ عام فہم زبان میں، بغیر ویزا یا جعلی دستاویزات کے ذریعے غیر قانونی طور پر بین الاقوامی سرحدیں عبور کرنے کو ڈنکی کہا جاتا ہے۔ اس خونی کھیل کے ماسٹر مائنڈ وہ ایجنٹس اور انسانی اسمگلر ہیں جو بیرونِ ملک روزگار اور سنہرے مستقبل کا جھانسہ دے کر سادہ لوح عوام کو لوٹتے ہیں۔
یہ ایجنٹس خود کو کنسلٹنٹ یا ہمدرد ظاہر کرتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ خوف اور ناامیدی کے سوداگر ہیں۔ فی کس 30 لاکھ سے 60 لاکھ روپے وصول کرنے کے بعد نوجوانوں کو ویزا دینے کے بجائے ایران، ترکیہ، لیبیا اور مراکش کے خطرناک صحراؤں، جنگلوں اور گہرے سمندروں میں دھکیل دیا جاتا ہے، جہاں ان کا سفر اکثر قید، اغوا، وحشیانہ تشدد، جبری مشقت اور موت پر جا کر ختم ہوتا ہے۔
آخر نوجوان، حتیٰ کہ لائبہ جیسی ہونہار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طالبات بھی، یہ خونی اور پرخطر راستہ کیوں منتخب کرتی ہیں؟ اس کا جواب پاکستان کے موجودہ ابتر معاشی اور سیاسی حالات میں پوشیدہ ہے۔ ملک میں بے قابو مہنگائی، روپے کی بے قدری اور اعلیٰ ترین ڈگریوں کے باوجود باوقار روزگار کے مواقع نہ ہونا نوجوانوں کو شدید مایوسی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ جب نظام میں میرٹ کی پامالی عام ہو، تعلیمی اداروں کی ڈگریاں معاشی تحفظ کی ضمانت نہ دے سکیں اور مستقبل تاریک نظر آئے تو نوجوانوں میں ملک چھوڑنے کا اضطراب جنم لیتا ہے۔
اس پر مستزاد ہمارے معاشرے کا وہ نفسیاتی دباؤ ہے جس کے تحت بیرونِ ملک مقیم افراد کو ہی کامیاب تصور کیا جاتا ہے۔ اسی سوچ کے باعث والدین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور جائیدادیں فروخت کرکے بچوں کو ایجنٹوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔
اس سنگین اور پھیلتے ہوئے ناسور کے خاتمے کے لیے حکومتِ پاکستان کو زبانی جمع خرچ سے نکل کر ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ سب سے پہلے ایف آئی اے کے ذریعے تمام نجی ویزا اور ایجوکیشن کنسلٹنٹس کی کڑی جانچ پڑتال کی جائے اور غیر رجسٹرڈ ایجنٹ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ دوسری جانب ایچ ای سی اور وزارتِ داخلہ تعلیمی اداروں میں ایسے مفت ڈیسک اور آن لائن پورٹلز قائم کریں جہاں طلبہ کو بین الاقوامی اسکالرشپس اور ویزا کے طریقۂ کار سے متعلق براہِ راست اور شفاف معلومات مل سکیں، تاکہ وہ ان ٹھگوں کے محتاج نہ رہیں۔ ا
س کے ساتھ ساتھ ریاست کو مختلف ممالک کے ساتھ سرکاری سطح پر ورک ویزوں اور ہنرمند افرادی قوت سے متعلق معاہدوں کے ذریعے قانونی ہجرت کے عمل کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ بیرونِ ملک جانے کے خواہش مند نوجوان محفوظ اور باوقار راستہ اختیار کر سکیں۔ ان تمام اقدامات سے بڑھ کر ملک کے اندر سیاسی اور معاشی استحکام لاتے ہوئے میرٹ اور روزگار کے مواقع بحال کرنا ہوں گے، تاکہ ہمارے ہونہار نوجوانوں کو اپنا وطن چھوڑنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
ایک گولڈ میڈلسٹ بیٹی کی لاش ہمارے پورے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اگر ریاست نے اب بھی اس سفاک ایجنٹ سسٹم اور ڈنکی کلچر کی جڑیں نہ کاٹیں اور اپنے نوجوانوں کو تحفظ اور امید نہ دی تو ہم کب تک اپنے روشن دماغوں اور نوجوانوں کو اس تاریک راستے کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے؟