رات کے تین بج رہے ہیں۔ پورا شہر خاموشی کی چادر اوڑھے سو رہا ہے، لیکن میرے گھر کے ایک کمرے سے آتی زرد روشنی اس سناٹے کا سینہ چاک کر رہی ہے۔ میں دبے قدموں اس کمرے کی طرف بڑھا، جہاں میری دو بیٹیاں، ایک دسویں اور دوسری نہم جماعت کی طالبہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہی تھیں۔ میں نے جب دروازے کی اوٹ سے دیکھا تو میرا کلیجہ منہ کو آگیا۔ وہ دونوں کتابوں کے پہاڑ کے پیچھے چھپی، اپنی کانپتی انگلیوں سے کاغذوں پر کچھ لکیریں کھینچ رہی تھیں۔ ان کے چہروں پر وہ وحشت اور تھکن تھی جو کسی قیدی کے چہرے پر سزا سن کر ہوتی ہے۔
بطور ایک سرکاری استاد، میں نے ہزاروں بچوں کو تختہ سیاہ پر مستقبل کے خواب دیکھنا سکھایا، لیکن اس رات میں نے اپنے ہی جگر گوشوں کو “نمبروں کی بھٹی” میں جھلستے دیکھا۔ وہ دسویں اور نہم کی طالبات نہیں تھیں، وہ تو دو ایسی معصوم جانیں تھیں جنہیں ہم جیسے معاشرے نے ایک ایسی اندھی دوڑ میں دھکیل دیا ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔ ان کے ذہنوں پر ایک ہی بھوت سوار ہے: “رشتہ داروں اور سہیلیوں سے زیادہ نمبر لینا”۔ ان کے لیے تعلیم اب علم کی پیاس بجھانا نہیں رہی، بلکہ یہ ایک خونی مقابلہ بن چکا ہے جہاں جیت کا مطلب صرف “چند ہندسے” اور ہار کا مطلب “خاندانی ذلت” ہے۔
ہمارے نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ “رٹہ” ہے۔ یہ وہ میٹھا زہر ہے جو ہم کامیابی کے نام پر اپنی نسلوں کو خود اپنے ہاتھوں سے پلا رہے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب وہ دونوں کتاب کھولتی ہیں، تو ان کے چہرے پر سیکھنے کی وہ چمک نہیں ہوتی جو ایک نئی سوچ پیدا کرتی ہے، بلکہ وہ خوف ہوتا ہے کہ اگر ایک لفظ بھی بھول گیا تو رشتہ دار کیا کہیں گے؟ ہم نے انہیں طوطا تو بنا دیا ہے، مگر ان کے تخیل کے پر نوچ لیے ہیں۔ یاد رکھیے، رٹہ صرف کاغذ بھر سکتا ہے، شعور کی بنیاد کبھی نہیں رکھ سکتا۔ جب تک تعلیم میں “فہم” نہیں آئے گا، یہ بچیاں کبھی اس ذہنی تناؤ سے باہر نہیں نکل سکیں گی۔
ہم اکثر “عالمی معیار” کی دہائی دیتے ہیں، مگر کیا عالمی معیار کا مطلب اپنی نسلوں کو نفسیاتی مریض بنانا ہے؟ حقیقی عالمی معیار وہ ہے جہاں ہم جدید تعلیم کو اپنی “مقامی اقدار” کے ریشم میں پرو دیں۔ ہمیں ایسی نئی نسل چاہیے جو ٹیکنالوجی کے دور میں تو جیے، مگر جس کے پاؤں اپنی مٹی میں پیوست ہوں۔ ہمیں انہیں یہ بتانا ہے کہ ایک کامیاب زندگی کا راز رزلٹ کارڈ کے گریڈز میں نہیں، بلکہ اس “مضبوط بنیاد” اور کردار میں ہے جو مصیبتوں کے سامنے ہمالیہ بن کر کھڑا ہو جائے۔
ایک استاد اور ایک باپ کی حیثیت سے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ہمیں بچوں پر “سختی نہیں بلکہ رہنمائی” کی ضرورت ہے۔ ہم نے ان کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیا ہے کہ ہمارا اعتماد اور ہماری محبت ان کے مارکس سے جڑی ہے۔ یہ سراسر ظلم ہے! زندگی کسی ایک امتحان کا نام نہیں، یہ تو ہر موڑ پر ایک نیا چیلنج ہے۔ ہمیں انہیں امتحان کے لیے نہیں، بلکہ “زندگی کے لیے تیار” کرنا ہے۔ ہمیں انہیں سکھانا ہے کہ مقابلہ دوسروں سے نہیں، اپنی ذات کی بہتری سے ہونا چاہیے۔ اگر وہ آج کل سے بہتر انسان بن گئی ہیں، تو یہی کائنات کی سب سے بڑی پوزیشن ہے۔
میں نے اس رات ان کے کمرے میں داخل ہو کر ان کی کتابیں زبردستی بند کر دیں اور انہیں سینے سے لگا لیا۔ ان کی آنکھوں میں لرزتا ہوا وہ “خوف” مجھے آج بھی سونے نہیں دیتا۔ ہمیں “نئی نسل” کے لیے “نئی سوچ” کے دریچے کھولنے ہوں گے۔ ہمیں اس “نمبروں کی دوڑ” کے بت کو پاش پاش کرنا ہوگا، اس سے پہلے کہ یہ دوڑ ہماری نسلوں کے احساسات اور تخلیق کو کچل کر رکھ دے۔ میں اپنی بیٹیوں کو ایک نمبروں کی مشین نہیں، بلکہ ایک روشن مستقبل کی پراعتماد معمار دیکھنا چاہتا ہوں۔
اے پالیسی سازو! اور اے نمبروں کے بت تراشنے والے معاشرے! ہوش کے ناخن لو۔ اس سے پہلے کہ تمہارے یہ “فیصد” اور “گریڈز” ہمارے بچوں کے ذہنوں کو بنجر بنا دیں، اس نظام کو جڑ سے بدل ڈالو۔ یاد رکھو، اگر ہم نے آج ان کلیوں کو نمبروں کی بھٹی سے نہ نکالا، تو کل ہمارے پاس ڈگریاں تو ہوں گی مگر وہ زندہ انسان نہیں ہوں گے جو کسی قوم کا فخر ہوتے ہیں۔ ہمیں روبوٹ نہیں، انسان چاہیے—اور انسان رواجوں کی زنجیروں میں نہیں، علم کی روشنی میں جنم لیتے ہیں۔