پی ٹی آئی کے انقلابی بیانیے اور تضادات پر مبنی خصوصی رپورٹ؛ تیرہ سالہ اقتدار کے باوجود کے پی میں تبدیلی کے آثار نہیں، جبکہ سوشل میڈیا تنقید کو ‘بوٹس’ قرار دینا عوامی غصے سے فرار کا راستہ ہے۔

May 1, 2026

افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 1, 2026

پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔

May 1, 2026

نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے مخصوص صحافتی ٹولے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

May 1, 2026

ماضی کے جنگی فتووں اور مفاد پرست طبقوں کے تضاد نے غریب کی نسلوں کو برباد کیا؛ اب وقت ہے کہ نوجوانوں کو ہتھیار کے بجائے کتاب دے کر علم و شعور کی راہ پر ڈالا جائے۔

May 1, 2026

کابل میں بحالی مرکز کے عسکری استعمال پر سامنے آنے والی قانونی تشخیص نے طالبان کے الزامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں؛ بین الاقوامی قوانین کے تحت عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سویلین مقامات اپنا تحفظ کھو دیتے ہیں۔

May 1, 2026

نمبروں کا قیدی

ہم اکثر “عالمی معیار” کی دہائی دیتے ہیں، مگر کیا عالمی معیار کا مطلب اپنی نسلوں کو نفسیاتی مریض بنانا ہے؟ حقیقی عالمی معیار وہ ہے جہاں ہم جدید تعلیم کو اپنی “مقامی اقدار” کے ریشم میں پرو دیں۔
نمبروں کا قیدی

اے پالیسی سازو! اور اے نمبروں کے بت تراشنے والے معاشرے! ہوش کے ناخن لو۔ اس سے پہلے کہ تمہارے یہ "فیصد" اور "گریڈز" ہمارے بچوں کے ذہنوں کو بنجر بنا دیں، اس نظام کو جڑ سے بدل ڈالو۔

March 8, 2026

رات کے تین بج رہے ہیں۔ پورا شہر خاموشی کی چادر اوڑھے سو رہا ہے، لیکن میرے گھر کے ایک کمرے سے آتی زرد روشنی اس سناٹے کا سینہ چاک کر رہی ہے۔ میں دبے قدموں اس کمرے کی طرف بڑھا، جہاں میری دو بیٹیاں، ایک دسویں اور دوسری نہم جماعت کی طالبہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہی تھیں۔ میں نے جب دروازے کی اوٹ سے دیکھا تو میرا کلیجہ منہ کو آگیا۔ وہ دونوں کتابوں کے پہاڑ کے پیچھے چھپی، اپنی کانپتی انگلیوں سے کاغذوں پر کچھ لکیریں کھینچ رہی تھیں۔ ان کے چہروں پر وہ وحشت اور تھکن تھی جو کسی قیدی کے چہرے پر سزا سن کر ہوتی ہے۔


​بطور ایک سرکاری استاد، میں نے ہزاروں بچوں کو تختہ سیاہ پر مستقبل کے خواب دیکھنا سکھایا، لیکن اس رات میں نے اپنے ہی جگر گوشوں کو “نمبروں کی بھٹی” میں جھلستے دیکھا۔ وہ دسویں اور نہم کی طالبات نہیں تھیں، وہ تو دو ایسی معصوم جانیں تھیں جنہیں ہم جیسے معاشرے نے ایک ایسی اندھی دوڑ میں دھکیل دیا ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔ ان کے ذہنوں پر ایک ہی بھوت سوار ہے: “رشتہ داروں اور سہیلیوں سے زیادہ نمبر لینا”۔ ان کے لیے تعلیم اب علم کی پیاس بجھانا نہیں رہی، بلکہ یہ ایک خونی مقابلہ بن چکا ہے جہاں جیت کا مطلب صرف “چند ہندسے” اور ہار کا مطلب “خاندانی ذلت” ہے۔


​ہمارے نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ “رٹہ” ہے۔ یہ وہ میٹھا زہر ہے جو ہم کامیابی کے نام پر اپنی نسلوں کو خود اپنے ہاتھوں سے پلا رہے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب وہ دونوں کتاب کھولتی ہیں، تو ان کے چہرے پر سیکھنے کی وہ چمک نہیں ہوتی جو ایک نئی سوچ پیدا کرتی ہے، بلکہ وہ خوف ہوتا ہے کہ اگر ایک لفظ بھی بھول گیا تو رشتہ دار کیا کہیں گے؟ ہم نے انہیں طوطا تو بنا دیا ہے، مگر ان کے تخیل کے پر نوچ لیے ہیں۔ یاد رکھیے، رٹہ صرف کاغذ بھر سکتا ہے، شعور کی بنیاد کبھی نہیں رکھ سکتا۔ جب تک تعلیم میں “فہم” نہیں آئے گا، یہ بچیاں کبھی اس ذہنی تناؤ سے باہر نہیں نکل سکیں گی۔


​ہم اکثر “عالمی معیار” کی دہائی دیتے ہیں، مگر کیا عالمی معیار کا مطلب اپنی نسلوں کو نفسیاتی مریض بنانا ہے؟ حقیقی عالمی معیار وہ ہے جہاں ہم جدید تعلیم کو اپنی “مقامی اقدار” کے ریشم میں پرو دیں۔ ہمیں ایسی نئی نسل چاہیے جو ٹیکنالوجی کے دور میں تو جیے، مگر جس کے پاؤں اپنی مٹی میں پیوست ہوں۔ ہمیں انہیں یہ بتانا ہے کہ ایک کامیاب زندگی کا راز رزلٹ کارڈ کے گریڈز میں نہیں، بلکہ اس “مضبوط بنیاد” اور کردار میں ہے جو مصیبتوں کے سامنے ہمالیہ بن کر کھڑا ہو جائے۔


​ایک استاد اور ایک باپ کی حیثیت سے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ہمیں بچوں پر “سختی نہیں بلکہ رہنمائی” کی ضرورت ہے۔ ہم نے ان کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیا ہے کہ ہمارا اعتماد اور ہماری محبت ان کے مارکس سے جڑی ہے۔ یہ سراسر ظلم ہے! زندگی کسی ایک امتحان کا نام نہیں، یہ تو ہر موڑ پر ایک نیا چیلنج ہے۔ ہمیں انہیں امتحان کے لیے نہیں، بلکہ “زندگی کے لیے تیار” کرنا ہے۔ ہمیں انہیں سکھانا ہے کہ مقابلہ دوسروں سے نہیں، اپنی ذات کی بہتری سے ہونا چاہیے۔ اگر وہ آج کل سے بہتر انسان بن گئی ہیں، تو یہی کائنات کی سب سے بڑی پوزیشن ہے۔


​میں نے اس رات ان کے کمرے میں داخل ہو کر ان کی کتابیں زبردستی بند کر دیں اور انہیں سینے سے لگا لیا۔ ان کی آنکھوں میں لرزتا ہوا وہ “خوف” مجھے آج بھی سونے نہیں دیتا۔ ہمیں “نئی نسل” کے لیے “نئی سوچ” کے دریچے کھولنے ہوں گے۔ ہمیں اس “نمبروں کی دوڑ” کے بت کو پاش پاش کرنا ہوگا، اس سے پہلے کہ یہ دوڑ ہماری نسلوں کے احساسات اور تخلیق کو کچل کر رکھ دے۔ میں اپنی بیٹیوں کو ایک نمبروں کی مشین نہیں، بلکہ ایک روشن مستقبل کی پراعتماد معمار دیکھنا چاہتا ہوں۔


اے پالیسی سازو! اور اے نمبروں کے بت تراشنے والے معاشرے! ہوش کے ناخن لو۔ اس سے پہلے کہ تمہارے یہ “فیصد” اور “گریڈز” ہمارے بچوں کے ذہنوں کو بنجر بنا دیں، اس نظام کو جڑ سے بدل ڈالو۔ یاد رکھو، اگر ہم نے آج ان کلیوں کو نمبروں کی بھٹی سے نہ نکالا، تو کل ہمارے پاس ڈگریاں تو ہوں گی مگر وہ زندہ انسان نہیں ہوں گے جو کسی قوم کا فخر ہوتے ہیں۔ ہمیں روبوٹ نہیں، انسان چاہیے—اور انسان رواجوں کی زنجیروں میں نہیں، علم کی روشنی میں جنم لیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی کے انقلابی بیانیے اور تضادات پر مبنی خصوصی رپورٹ؛ تیرہ سالہ اقتدار کے باوجود کے پی میں تبدیلی کے آثار نہیں، جبکہ سوشل میڈیا تنقید کو ‘بوٹس’ قرار دینا عوامی غصے سے فرار کا راستہ ہے۔

May 1, 2026

افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 1, 2026

پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔

May 1, 2026

نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے مخصوص صحافتی ٹولے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

May 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *