"> مولانا فضل الرحمان کی سیاست: مذہب، اقتدار اور دوہرا معیار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں مذہبی بیانیے، سیاسی مفادات اور بدلتے مؤقف کے تضادات پر اہم سوالات اٹھتے ہیں۔ اقتدار کی خاطر سیاسی مفاہمت، ماضی کے فیصلوں اور اصولی دعوؤں کے درمیان فرق ان کی سیاست کو تنقید کی زد میں لاتا ہے۔

October 16, 2026

پاکستان کی چار دہائیوں پر محیط پارلیمانی تاریخ میں مولانا فضل الرحمان کا سیاسی سفر اصولی سیاست کے بجائے صرف ذاتی مفادات اور اقتدار کی ہوس کا غماز رہا ہے۔ ان کے تمام تر دعوے محض کھوکھلے نعرے ثابت ہوئے ہیں، کیونکہ ان کے فیصلے کبھی قوم یا مذہب کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ ذاتی، خاندانی اور جماعتی بقا کی نذر ہوئے ہیں۔

ریاستی مفادات اور قومی سلامتی کو بالائے طاق رکھ کر ہمیشہ غیروں کی پشت پناہی کرنا اور اقتدار کے حصول کے لیے ہر اصول کو پاؤں تلے روندنا ان کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ مفاہمت اور سیاسی حکمتِ عملی کے پردے میں انہوں نے دراصل ہر دور میں اقتدار کے مزے لوٹنے کے لیے جمہوریت اور مذہب کو بڑی بے دردی سے استعمال کیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک میں عام انتخابات کا بگل بجتا ہے یا سیاسی تنہائی کا خطرہ سر پر منڈلاتا ہے، تو مولانا اور ان کی جماعت کی طرف سے اسلام زندہ باد کانفرنسوں اور مذہبی جذبات پر مبنی تحاریک کا سلسلہ تیز ہو جاتا ہے۔ روایتی مذہبی ووٹر کے جذبات کو استعمال کر کے انتخابی طاقت حاصل کرنا ان کی حکمتِ عملی کا ہمیشہ سے اہم حصہ رہا ہے۔ تاہم، انتخابات کا مرحلہ تمام ہونے اور اقتدار کی تقسیم کا وقت آنے پر وہی مطالبات مصلحت کی نذر ہو جاتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہبی شناخت اور مقدس نعرے محض ووٹ اور سیاسی بارگیننگ کی قیمت بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

افغان طالبان سے روابط

قومی سلامتی کے حساس معاملات میں بھی ان کا کردار ہمیشہ سوالات کی زد میں رہا ہے۔ جب پوری ریاست اور قوم افغان طالبان کے رویے یا دہشت گردی کے خلاف ایک سخت اور متفقہ قومی مؤقف پر کھڑی تھی، تب بھی مولانا اور ان کی جماعت کی طرف سے افغان طالبان کی فکری اور عسکری حمایت کا تسلسل برقرار رکھا گیا۔ ملکی خارجہ پالیسی کے متوازی اور ریاستی تقاضوں کے برعکس ایک پڑوسی عسکری گروہ کے ساتھ گہرے روابط رکھنا اور ان کے بیانیے کا دفاع کرنا ایک ایسا متنازعہ باب ہے جس پر اندرونی حلقوں میں ہمیشہ تحفظات پائے گئے۔

امریکہ مخالف بیانیے کا تضاد

بین الاقوامی سطح پر ان کے پسِ پردہ سیاسی ہتھکنڈوں کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ امریکی سفارتی مراسلوں (وکی لیکس) کے انکشافات کے مطابق نومبر 2007ء میں اسلام آباد میں امریکی سفیر کے ساتھ ملاقات کے دوران مولانا اور ان کے رفقاء نے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی خواہش ظاہر کی اور خود کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے موزوں ترین شخصیت کے طور پر پیش کیا۔ سڑکوں پر امریکہ مخالفت کا بلند و بانگ نعرہ لگانے والوں کا اقتدار کے حصول کے لیے بیرونی طاقتوں سے اس قسم کی راہیں استوار کرنا ان کے دعوؤں اور اعمال کے واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی طرح ان کا کردار بھی مفاہمت کی بہترین مثال رہا ہے۔ سن 2002ء کے بعد متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے پرویز مشرف کی امریکی اتحادی پالیسیوں کے خلاف گو مشرف گو کا شور مچایا گیا، لیکن جب اقتدار کی بندر بانٹ کا وقت آیا تو 2003ء میں پارلیمنٹ کے اندر 17ویں آئینی ترمیم اور ایل ایف او کے حق میں ووٹ دے کر جنرل مشرف کی وردی اور صدارت کو قانونی تحفظ بخش دیا گیا۔ اس لو دَے کے بدلے صوبوں میں حکومتیں اور مرکز میں قائدِ حزبِ اختلاف کا عہدہ حاصل کیا گیا، جسے ماہرین ایک کنٹرولڈ اپوزیشن کی عملی شکل قرار دیتے ہیں۔

عورت کی حکمرانی پر دوہرا معیار

مذہبی بیانیے اور عملی سیاست کا تضاد ان کے اس مؤقف میں بھی نظر آتا ہے جو انہوں نے عورت کی حکمرانی کے حوالے سے اختیار کیا۔ روایتی طور پر جے یو آئی کا مؤقف رہا ہے کہ اسلام میں عورت کی سربراہی شرعاً جائز نہیں، اور اسی بنیاد پر محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خلاف شدید فتویٰ بازی کی گئی۔ لیکن جب اقتدار کی مجبوری پیش آئی تو 1993ء میں وہی مولانا بے نظیر کی دوسری حکومت کا حصہ بن گئے۔

یہی دوہرا معیار حالیہ برسوں میں پی ڈی ایم اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد میں دیکھا گیا، جہاں مریم نواز کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر بیٹھ کر سیاسی جوڑ توڑ کیے گئے۔ اصول صرف مخالفین کے لیے اور مفادات اتحادیوں کے لیے رکھے گئے۔

عمران خان مخالف بیانیے سے یوٹرن

سیاسی مخالفین کے خلاف زبان اور پھر مصلحت کی بنیاد پر یوٹرن لینا ان کے طرزِ سیاست کا مستقل وصف رہا ہے۔ سال 2014ء سے 2023ء کے دوران انہوں نے عمران خان کے خلاف شدید ترین مذہبی اور اخلاقی نوعیت کا بیانیہ بنایا اور آزادی مارچ برپا کیا۔ مگر 2024ء کے انتخابات کے بعد جب سیاسی ہوا بدلی تو انہوں نے برملا اعتراف کیا کہ وہ تمام الزامات محض سیاسی بیان بازی تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پی ٹی آئی کے ووٹروں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوششیں شروع کر دیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے، جو خالصتاً مفاد پرستانہ سیاست کی علامت ہے۔

خاندانی سیاست

جماعت کے اندرونی معاملات میں بھی جمہوری اقدار کا فقدان دکھائی دیا۔ جب مولانا محمد خان شیرانی جیسے پارٹی کے بزرگ اور سینئر رہنمائوں نے جماعت کو خاندانی ملکیت بنانے اور فیصلوں پر تنقید کی تو انہیں فوری طور پر باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ جو رہنما باہر کھڑے ہو کر شوریٰ اور جمہوریت کا درس دیتا ہے، اس کے اپنے گھر کے اندر اختلافِ رائے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہوتی۔

وفاق المدارس پر اثر و رسوخ

مدارس کی رجسٹریشن اور دینی تشخص کے نام پر کی جانے والی سیاست بھی مولانا فضل الرحمان کے تضادات کا ایک نمایاں باب رہی ہے۔ ملک بھر میں دینی مدارس کے تعلیمی نیٹ ورک اور وفاقِ المدارس کے پلیٹ فارم کو ہمیشہ سیاسی مفادات کے تحفظ اور اپنی جماعت کا ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

المیہ یہ ہے کہ جب بھی حکومتوں کی طرف سے مدارس کی رجسٹریشن یا ان کے نظام کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی، تو اسے مذہب پر حملہ قرار دے کر سڑکوں پر سیاست چمکائی گئی، جبکہ پسِ پردہ معاملات طے کرنے کے لیے ہمیشہ حکومتی ایوانوں کے دروازے کھلے رکھے گئے۔ صورتِ حال کا دلچسپ اور تلخ پہلو یہ ہے کہ ایک طرف مدارس کے طلبہ کو سیاسی جلوسوں اور دھرنوں میں ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف ملک کے مختلف صوبوں میں مدارس کے سرکاری وفاق اور تنظیمی ڈھانچے پر عملی طور پر انہی کی جماعت یا ان کے قریبی رفقاء کا تسلط رہا ہے۔

پنجاب ہو، خیبر پختونخوا ہو یا بلوچستان، تعلیمی اداروں کے انتظامی عہدوں کو سیاسی اور مسلکی مفادات کی بھینٹ چڑھایا گیا، تاکہ بوقتِ ضرورت اس وسیع دینی نیٹ ورک کو سیاسی دباؤ اور بارگیننگ چِپ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ تعلیمی اور روحانی مراکز کو سیاست کی نذر کرنے کی اس روش نے دینی درس گاہوں کے اصل تعلیمی وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی پوری سیاسی زندگی کا نچوڑ کسی غیر متزلزل اصول یا نظریے کے بجائے وقت اور ضرورت کی مصلحت پر کھڑا ہے۔ اقتدار سے باہر ہونے پر انقلابی اور مذہبی بیانیہ ڈھال بن جاتا ہے، اور اقتدار کے قریب آتے ہی تمام ضابطے پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔

قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور اخلاقی معیارات کو ذاتی و جماعتی مفاد کے تابع کرنے کی اس روش نے بالآخر روایتی مذہبی سیاست اور جمہوری اقدار دونوں کے تشخص کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *