عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک جا سکتی ہیں۔
ٹریڈنگ ڈاٹ کام آسٹریلیا کے سی ای او پیٹر میکگوائر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور صارفین پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔ قیمتیں جو کچھ عرصہ قبل 75 سے 80 ڈالر کے درمیان تھیں، اچانک 116 ڈالر تک پہنچ گئیں، اور اگرچہ بعد ازاں ان میں کچھ کمی دیکھی گئی، لیکن مارکیٹ میں ابھی بھی شدید غیر یقینی پائی جاتی ہے۔
پیٹر میکگوائر نے اس غیر معمولی اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹیں سپلائی میں کمی اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خدشات پر ردعمل دے رہی ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا امکان عالمی سپلائی چین کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ممالک کی جانب سے تیل و گیس کی پیداوار محدود کی جاتی ہے، تو قیمتوں کا 140 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جانا خارج از امکان نہیں ہے۔
تاہم ماہرین نے قیمتوں میں استحکام کے لیے ایک ممکنہ حل بھی تجویز کیا ہے۔ میکگوائر کے مطابق اگر جی7 ممالک کے وزرائے خزانہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے اشتراک سے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے تیل کی سپلائی مارکیٹ میں جاری کرتے ہیں، تو اس سے قیمتوں میں ہونے والا شدید اتار چڑھاؤ کم ہو سکتا ہے اور عالمی منڈی کو ایک حد تک استحکام مل سکتا ہے۔