گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان کو دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور جانی نقصان کی شرح عالمی سطح پر بلند ترین رہی، جس کی بنیادی وجہ سرحد پار سے ہونے والی مداخلت اور محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔
طالبان کی واپسی اور دہشت گردی
رپورٹ میں اس اہم نکتے کی نشاندہی کی گئی ہے کہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے گراف میں نمایاں اور تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ انڈیکس کے مطابق، افغان طالبان کی عبوری حکومت نے دہشت گرد گروہوں کو “جغرافیائی وسعت” اور “آپریشنل سہولت” فراہم کی، جس کے نتیجے میں پاکستان مخالف نیٹ ورکس کو مضبوط ہونے کا موقع ملا۔ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ افغانستان میں حملوں میں کمی اور اسی عرصے میں پاکستان میں اضافے کا رجحان ‘خطرے کی منتقلی’ کی واضح علامت ہے۔
ریاست کے خلاف مہم
عالمی رپورٹ نے ‘فتنہ الخوارج’ کو پاکستان کی سب سے وحشی اور غیر انسانی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس گروہ کا واحد مقصد دہشت گردی کے ذریعے ریاستِ پاکستان کو کمزور کرنا اور گرانا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2007 سے اب تک پاکستان میں ہونے والے کل دہشت گردانہ حملوں کے دو تہائی سے زائد واقعات میں یہی گروہ ملوث رہا ہے، اور 2025 میں اس کی جانب سے ہلاکتوں اور یرغمالی کے واقعات میں مزید تیزی دیکھی گئی۔
سرحدی صوبوں پر بوجھ اور علاقائی تشویش
انڈیکس کے مطابق پاکستان کے سرحدی صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان اس عالمی دہشت گردی کا شکار بنے ہیں، جہاں 2025 میں ہونے والے حملوں کا بڑا حصہ مرکوز رہا۔ رپورٹ میں “سرحدی حرکیات” کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ محض پاکستان کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک علاقائی سکیورٹی چیلنج ہے۔ تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان جیسی وسط ایشیائی ریاستیں بھی افغانستان سے ابھرنے والے ان دہشت گرد نیٹ ورکس پر شدید تحفظات رکھتی ہیں۔
پاکستان کی کامیابیاں اور موجودہ چیلنجز
رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان نے 2014 سے 2021 کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی تھیں اور حملوں میں بڑی حد تک کمی لائی گئی تھی۔ تاہم 2021 کے بعد بدلتے ہوئے علاقائی حالات نے ان تمام ثمرات کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان آج بھی ایک ذمہ دار ‘انسدادِ دہشت گردی کے خلاف’ اور فرنٹ لائن متاثرہ ملک کے طور پر موجود ہے اور ‘آپریشن عزمِ استحکام اور غضب للحق جیسے اقدامات کے ذریعے اس ناسور کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔
ماہرین کے مطابق افغان حکومت دوحہ معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کرے، اسی صورت میں امن ممکن ہوگا وگرنہ خطہ انتشار و دہشت کا مرکز ہی رہے گا۔