امریکہ میں مقیم سکھ رہنماء اور امریکی شہری گورپت ونت سنگھ پنون کے قتل کی ناکام سازش کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ 54 سالہ بھارتی شہری نکھل گپتا نے جمعہ کے روز نیویارک کی وفاقی عدالت میں اعترافِ جرم کر لیا ہے۔ نکھل گپتا پر الزام تھا کہ انہوں نے 2023 میں نیویارک میں مقیم سکھ سرگرم کارکن کو نشانہ بنانے کے لیے ایک مجرمانہ منصوبہ تیار کیا تھا جو کہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔
عالمی خبر رساں ادارے ’بلیومبرگ‘ کے مطابق نکھل گپتا نے عدالت کے روبرو تین مختلف الزامات میں قصوروار ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ الزامات براہِ راست گورپت ونت سنگھ پنون کے قتل کی منصوبہ بندی سے متعلق ہیں۔ واضح رہے کہ پنون بھارت کے شمالی صوبے پنجاب میں ایک آزاد سکھ ریاست کے قیام کی تحریک کے سرگرم حامی تصور کیے جاتے ہیں اور بھارتی حکومت کی جانب سے ان کی سرگرمیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
NEW: An Indian national admitted to his role in a foiled 2023 criminal plot to kill a Sikh activist with US citizenship who was living in New York.
— Insider Paper (@TheInsiderPaper) February 13, 2026
Nikhil Gupta, 54, pleaded guilty at a federal court hearing in New York Friday to three charges linked to a plan to kill Gurpatwant…
عدالتی کاروائی کے دوران یہ حقائق سامنے آئے کہ نکھل گپتا اس سازش کا حصہ تھے جس کا مقصد ایک غیر ملکی سرزمین پر سیاسی مخالف کو نشانہ بنانا تھا۔ اس اعترافِ جرم کے بعد نکھل گپتا کو طویل مدت کے لیے قید کی سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔ اس کیس نے بھارت اور امریکہ کے سفارتی تعلقات میں بھی حساس نوعیت کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ امریکی استغاثہ نے قبل ازیں اس سازش کے تانے بانے بعض بھارتی اہلکاروں سے جوڑنے کا اشارہ بھی دیا تھا۔