مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ‘نیویارک ٹائمز’ نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق ایرانی حملوں نے خطے میں امریکی فوجی انفراسٹرکچر کو مفلوج کر دیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں 13 امریکی فوجی اڈے اس حد تک تباہ ہو چکے ہیں کہ وہ اب رہائش کے قابل نہیں رہے۔
امریکی فوج کی صورتحال
رپورٹ کے مطابق اڈوں کی شدید تباہی کے باعث امریکی فوج کو ایک ایسی غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے جہاں فوجی اہلکار ” قریبی ہوٹل” پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان اڈوں پر اب صرف نہایت ضروری پائلٹس اور ٹیکنیشنز ہی موجود ہیں تاکہ ہنگامی دفاعی امور اور فضائی نگرانی کو سنبھالا جا سکے۔ باقی عملے کو حفاظتی اقدامات کے تحت قریبی شہری علاقوں اور ہوٹلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
کویت میں امریکی اڈے کو نقصان
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کا سب سے زیادہ اثر کویت میں واقع امریکی فوجی اڈے پر ہوا ہے، جو کہ خطے میں امریکی لاجسٹکس کا اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ کویت میں ہونے والی اس بڑی تباہی نے خلیجی خطے میں امریکی سیکیورٹی ڈھانچے اور دفاعی صلاحیتوں پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اڈوں کی اس سطح پر تباہی امریکہ کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک دھچکا ہے۔
دفاعی چیلنجز
ان حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ امریکی دفاعی حکام اس وقت خاموشی سے نقصان کا تخمینہ لگا رہے ہیں، تاہم نیویارک ٹائمز کے مطابق اڈوں کی بحالی میں طویل وقت اور اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ اپنی انتہا پر پہنچ چکا ہے اور واشنگٹن کو اپنے اڈوں کے دفاع کے لیے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔