جنوری 2026 کے اواخر میں ایران بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں ایران انٹرنیشنل کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں پاکستان کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا کہ زینبیون بریگیڈ کے عناصر کو پاکستان سے ایران منتقل کیا گیا اور انہیں مظاہرین کے خلاف کارروائی میں استعمال کیا گیا۔ یہ الزام نہ صرف شواہد سے عاری ہے بلکہ خطے کے زمینی، جغرافیائی اور سکیورٹی حقائق سے بھی متصادم ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ چند ہی دنوں کے اندر پاکستان سے مبینہ طور پر مسلح عناصر کو ایران منتقل کیا گیا، جو کہ عملی، لاجسٹک اور سکیورٹی اعتبار سے ناممکن کے قریب ہے۔ پاکستان-ایران سرحد دشوار گزار پہاڑی علاقوں، سخت نگرانی، چیک پوسٹس اور سکیورٹی میکنزم پر مشتمل ہے، جہاں کسی بھی قسم کی غیر قانونی یا مسلح نقل و حرکت بغیر طویل تیاری اور ریاستی سطح کی سہولت کے ممکن نہیں۔
ایران انٹرنیشنل کے دعوے کسی مستند سفری ریکارڈ، سرحدی ڈیٹا، انٹیلی جنس معلومات یا آزاد ذرائع کی تصدیق کے بغیر محض قیاس آرائی اور سنسنی خیز بیانیے پر مبنی ہیں۔ نہ ایرانی حکومت، نہ کسی بین الاقوامی مبصر ادارے اور نہ ہی کسی غیر جانبدار ذریعے نے اس الزام کی تائید کی ہے، جو اس رپورٹ کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے بارہا واضح کیا جا چکا ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے۔ پاکستان نہ تو اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے دیتا ہے اور نہ ہی سرحد پار مسلح گروہوں کی نقل و حرکت کی اجازت دیتا ہے۔ مضبوط بارڈر مینجمنٹ اور سکیورٹی کنٹرولز کے ہوتے ہوئے اس نوعیت کے دعوے محض مفروضے معلوم ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا نام بار بار اس طرح کے الزامات میں شامل کرنا دراصل تنازع کو بڑھانے، سیاسی توجہ حاصل کرنے اور ایک مخصوص بیانیے کو ہوا دینے کی کوشش ہے۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ دعوے نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش ہیں بلکہ عام ایرانی عوام میں پاکستان کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کا بھی باعث بن سکتے ہیں۔
پاکستان اور ایران کے تعلقات باہمی احترام، خودمختاری اور تعاون پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے موجود ہیں، جنہیں اس قسم کی غیر مصدقہ اور جانبدارانہ میڈیا رپورٹس کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان الزامات کا مؤثر جواب حقائق پر مبنی مضبوط تردید اور ذمہ دارانہ سفارتی مؤقف کے ذریعے دیا جانا چاہیے تاکہ گمراہ کن بیانیے کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔