امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے درمیان ایران کے خلاف مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی پر سنگین اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی جریدے ‘ایگزیوس’ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کی جانب سے ایران میں اندرونی بغاوت کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اس حق میں ہے کہ ایران کے اندرونی حالات کا فائدہ اٹھا کر وہاں عدم استحکام پیدا کیا جائے اور مسلح بغاوت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس کے برعکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم یا رجیم چینج کے حق میں نہیں ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت ایران پر سخت معاشی و سفارتی دباؤ بڑھا کر اسے مذاکرات کی میز پر لانے کو اپنی ترجیح قرار دے رہی ہے۔
بڑھتی ہوئی خلیج
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے جارحانہ منصوبوں کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ ایران میں کسی بھی قسم کی اندرونی مداخلت پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل سکتی ہے جس کے نتائج قابو سے باہر ہوں گے۔ یہ اختلافات ایک ایسے وقت میں منظرِ عام پر آئے ہیں جب وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ ایک ‘نئی ڈیل’ کے لیے پسِ پردہ کوششوں میں مصروف ہے۔
اسلام آباد امن مذاکرات
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان یہ کھچاؤ اس وقت مزید بڑھ گیا ہے جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست ملاقات اور امن مذاکرات کے لیے عالمی سطح پر کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے مذاکراتی عمل کو اہمیت دینا اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، جو خطے میں ایران کے مکمل خاتمے کا حامی ہے۔