ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای 28 فروری 2026 کی علی الصبح تہران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران جاں بحق ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے “شہادت” قرار دیا اور ملک بھر میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ امریکی اور اسرائیلی حکام نے کارروائی کو خطے میں بڑھتی کشیدگی اور سیکیورٹی خطرات کے تناظر میں “پیشگی اقدام” قرار دیا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی حملے اور ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
(1939-1979): آیت اللہ خامنہ ای کون تھے؟ انقلاب سے سپریم لیڈر تک کا سفر
19 اپریل 1939 کو مشہد کے انتہائی مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والے خامنہ ای نے کم عمری میں قرآن اور دینی تعلیم کا آغاز کیا اور بعد ازاں قم میں اعلیٰ مذہبی تعلیم حاصل کی، جہاں وہ روح اللہ خمینی سمیت ممتاز علما کے زیرِ اثر رہے۔ 1963 سے شاہ مخالف تحریک میں سرگرم ہوئے اور متعدد بار گرفتار ہوئے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد انہیں انقلابی کونسل میں شامل کیا گیا، پھر وزارتِ دفاع میں نائب وزیر اور سپریم ڈیفنس کونسل میں خمینی کے نمائندے مقرر ہوئے۔
1963 کے بعد انہیں کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ جلاوطنی کے دوران بھی وہ خمینی کے وفادار ساتھی رہے۔ 1979 میں جب انقلاب کامیاب ہوا تو خامنہ ای ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے نئے اسلامی نظام کی بنیاد رکھنے میں عملی کردار ادا کیا۔
1981–1989: جنگ، صدارت اور طاقت کی پہلی پرت
1981 میں ایک بم حملے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ اسی سال صدر منتخب ہوئے۔ 1980 سے جاری ایران عراق جنگ نے ان کے دورِ صدارت کو شکل دی۔ اگرچہ اس وقت زیادہ اختیارات وزیرِ اعظم کے پاس تھے، مگر خامنہ ای نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے اور دفاعی و سلامتی معاملات میں اپنی گرفت مضبوط کی۔
1989 میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد مجلس خبرگان نے انہیں سپریم لیڈر منتخب کیا۔ اس وقت وہ اعلیٰ فقہی مرتبے پر فائز نہیں تھے، مگر آئینی ترامیم کے ذریعے اس منصب کے لیے درکار شرائط نرم کی گئیں اور اختیارات مزید وسیع کیے گئے۔ وہ 37 برس تک اس منصب پر فائزرہے۔
جولائی 1989 کے آئینی ترامیم نے قائد کے اختیارات کو مزید استحکام بخشا، وزیرِاعظم کے عہدہ کو ختم کر کے سپریم لیڈر کے اختیارات مزید وسیع کر دئیے گئے۔
1990 کی دہائی: اختیارات کا ارتکاز اور ریاستی ڈھانچے کی تشکیلِ نو
ایران کا آئین سپریم لیڈر کو مسلح افواج، عدلیہ، سرکاری میڈیا اور اہم ریاستی تقرریوں پر بالادست اختیار دیتا ہے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد خامنہ ای نے ریاستی طاقت کو مرحلہ وار اپنے دفتر میں مرتکز کیا۔ مسلح افواج، عدلیہ، سرکاری میڈیا اور کلیدی تقرریاں سپریم لیڈر کے اختیار میں آئیں۔ پاسداران انقلاب کو نہ صرف داخلی سلامتی بلکہ معیشت اور خطے میں اثر و رسوخ کا ستون بنایا گیا۔ اس طرح خامنہ ای ریاستی طاقت کا مرکزی ستون بن گئے.
اسی عرصے میں انہوں نے بائیں بازو کے عناصر، اصلاح پسند علما اور ناقدین کو تدریجاً حاشیے پر دھکیلا، تاہم جب کبھی نظام کی ساکھ کو خطرہ لاحق ہوا تو محدود نرمی بھی دکھائی۔
مجلس خبرگان سپریم لیڈر کے انتخاب کی آئینی اتھارٹی رکھتی ہے، تاہم عملی طور پر قیادت کو چیلنج کم ہی کیا گیا.
2005–2013: 2009 احتجاج اور پہلا بڑا داخلی چیلنج
2005 میں محمود احمدی نژاد کی کامیابی نے قدامت پسند بیانیے کو تقویت دی۔ مگر 2009 کے صدارتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات نے ملک گیر احتجاج کو جنم دیا، جسے “گرین موومنٹ” کہا گیا۔
احتجاجیوں نے براہِ راست سپریم لیڈر کی پالیسیوں کو چیلنج کیا۔ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں متعدد افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہوئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب خامنہ ای کی قیادت پہلی بار بڑے پیمانے پر عوامی آزمائش سے گزری۔
خارجہ پالیسی: “محورِ مزاحمت” کی حکمت عملی
خامنہ ای کے دور میں ایران نے عراق، شام، لبنان (حزب اللہ)، یمن (حوثی) اور غزہ میں اتحادی گروہوں کی حمایت کو “محورِ مزاحمت” کی پالیسی کے طور پر فروغ دیا۔ حامیوں کے نزدیک یہ حکمت عملی ایران کی علاقائی خودمختاری اور دفاعی گہرائی کا ذریعہ تھی، جبکہ ناقدین اسے خطے میں عدم استحکام اور ایران کی عالمی تنہائی کا سبب قرار دیتے ہیں۔
2015: جوہری معاہدہ اور امید کی مختصر کرن
حسن روحانی کے دور میں ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا۔
خامنہ ای نے محتاط حمایت دی، اگرچہ وہ مغرب پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے رہے۔ 2018 میں امریکا اس معاہدے سے دستبردار ہو گیا۔ اس دستبرداری اور نئی پابندیوں نے اس معاہدے کو کمزور کر دیا اور کشیدگی بڑھا دی۔ حالیہ حملے بھی انہی تنازعات اور میزائل پروگرام کے پس منظر میں ہوئے۔
پابندیوں کے نتیجے میں افراطِ زر 40 فیصد سے تجاوز کر گیا، ایرانی ریال کی قدر گر گئی اور معیشت دباؤ کا شکار ہو گئی۔
2019–2022: احتجاج، اور کریک ڈاؤن
2019 میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ 2022 میں جینا مہسا امینی کی حراست میں موت نے ملک گیر احتجاج کو جنم دیا۔ انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق ہزاروں افراد گرفتار ہوئے۔ یہ تحریک صرف حجاب قانون کے خلاف نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی پر سوال تھی۔
علاقائی حکمتِ عملی: محورِ مزاحمت سے براہِ راست تصادم تک
خامنہ ای کے دور میں ایران نے حزب اللہ، حوثی اور دیگر اتحادی گروہوں کے ذریعے “محورِ مزاحمت” کو وسعت دی۔ 2023 میں اسرائیل۔حماس جنگ کے بعد کشیدگی بڑھی۔ 2024 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست حملے ہوئے۔
جون 2025 میں 12 روزہ جنگ میں امریکا اسرائیل کے ساتھ شامل ہوا، جس سے ایران کی دفاعی صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا۔ پابندیاں سخت ہوئیں، معیشت مزید کمزور ہوئی اور داخلی بے چینی بڑھی۔
دسمبر 2025–فروری 2026: آخری بحران
دسمبر 2025 میں معاشی بدحالی کے خلاف احتجاج پھوٹ پڑے۔ جنوری 2026 میں سخت کریک ڈاؤن کیا گیا۔ اسی دوران امریکا نے خلیج میں فوجی موجودگی بڑھا دی۔
28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مربوط حملہ کیا۔ ابتدائی فضائی کارروائی میں آیت اللہ خامنہ ای ہلاک ہو گئے، یوں 37 سالہ اقتدار کا باب بند ہو گیا۔
جانشینی کا مرحلہ: اگلا سپریم لیڈر کون؟
آئین کے مطابق مجلس خبرگان نیا سپریم لیڈر منتخب کرے گی۔ مبصرین کے مطابق پاسدارانِ انقلاب اس عمل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ممکنہ ناموں میں خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای اور بعض سینئر علما شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر قیادت کے اندر اختلافات ابھرے تو اقتدار کی کشمکش شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ایران اور خطے پر ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کو تین بڑے چلینج درپیش ہیں۔ اس وقت ملک شدید معاشی دباؤ، عالمی پابندیوں، علاقائی کشیدگی اور داخلی بے چینی کا سامنا کر رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عملی طور پر پاسدارانِ انقلاب اس عبوری مرحلے میں سب سے طاقتور ادارہ بن کر ابھرے گا۔ اگرچہ آئینی طور پر فوج سیاست سے بالاتر سمجھی جاتی ہے، لیکن گزشتہ تین دہائیوں میں پاسداران انقلاب نہ صرف عسکری بلکہ معاشی اور اسٹریٹیجک طاقت کا بھی مرکز بن چکی ہے۔ ایسے میں قیادت کی منتقلی کے عمل میں اس کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔
متنازع وراثت
سرکاری میڈیا خامنہ ای کو ایران کی خودمختاری اور علاقائی طاقت کا معمار قرار دیتا ہے، جبکہ انسانی حقوق تنظیمیں ان کے دور کو سخت گیر پالیسیوں، احتجاجی کریک ڈاؤن اور معاشی مشکلات سے تعبیر کرتی ہیں۔ ان کی موت ایران کی اسلامی جمہوریہ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، جہاں قیادت کی تبدیلی، داخلی استحکام اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کا نیا باب شروع ہونے جا رہا ہے۔