عمران خان کو اگست 2023 میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کی طرف سے توشہ خانہ کے طویل ترین کرپشن کیس میں باقاعدہ مجرم قرار دیے جانے اور سزا سنائے جانے کے بعد قانونی طور پر جیل بھیجا گیا۔
طالبان نے اقتدار میں آتے ہی یہاں کے شہریوں کو ان کے بنیادی انسانی, سیاسی اور سماجی حقوق سے یکسر محروم کر دیا۔ خواتین کی تعلیم اور روزگار پر مکمل پابندی نے معاشرے کے آدھے حصے کو گھروں میں قید کر دیا ہے، جس کے خلاف بدخشاں کے باشعور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ان میں سے صرف داعش کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً 3000 کے قریب بتائی گئی ہے۔ روسی حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار طالبان کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ افغان سر زمین پر دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
بھارت کے عزائم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ہندوستان کا خواب ہے کہ وہ پاکستان کو سفارتی تنہائی اور عسکری جارحیت کا نشانہ بنا کر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرے، لیکن یہ خواب ان کے قد کاٹھ اور صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ “پاکستان دشمن کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہونے دے گا۔”
یہ افراد طالبان کی سرپرستی میں نہ صرف اہم عہدوں پر براجمان ہیں بلکہ ریاستی پالیسی سازی اور حکومتی امور میں بھی ان کا کلیدی کردار ہے، جو کہ خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
مارچ 2011 سے اگست 2025 تک لاپتہ افراد کے تقریباً 10,618 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے ریاست 8,800 سے زائد کیسز کو نمٹا چکی ہے اور 6,800 سے زائد افراد کو ٹریس بھی کیا جا چکا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں
شاہراہ دستور کا یہ اسکینڈل پاکستان میں قانون کی بالادستی اور اشرافیہ کے قبضے کے خلاف ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جانی چاہیے۔ اگر ایک عام شہری کے لیے قانون سخت ہے، تو اشرافیہ بھی اس سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔
افغانستان میں آبادی کی شرح نمو 8.6 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کی بڑی وجہ بیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی ہے۔ آبادی میں اس تیز رفتار اضافے اور معاشی پیداوار کے تضاد کے سبب فی کس آمدنی میں 4.0 فیصد کی کمی واقع ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دو اعشاریہ چار ارب ڈالر کی خطیر رقم کا دعویٰ حقائق کے برعکس اور حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی اصل لاگت اس سے کہیں کم ہے، جس کا حتمی تعین تکنیکی جانچ اور کھلی بولی کے بعد ہی ممکن ہو گا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ شق مبلغین کو براہِ راست حکومت کا کارندہ بنانے کی کوشش ہے، تاکہ شیخ ہبت اللہ اخوندزادہ کے مطلق العنان اور ناقابلِ تردید اختیارات کو تسلیم کروایا جا سکے۔