کابل: ڈپٹی گورنر قدرت اللہ امینی نے پاکستان کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر افغان سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ اجازت دیں تو ان کے جنگجو پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کریں گے، جس پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں قدرت اللہ امینی نے کہا، “اگر ہمیں امیرالمؤمنین کی اجازت ملی تو ہمارے مجاہدین پاکستان میں داخل ہونے، علاقے پر قبضہ کرنے اور مخالف عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں۔” انہوں نے پاکستانی عوام کی نسل کشی کر نے کا غیر انسانی و اخلاقی عزم بھی ظاہر کیا
رپورٹس کے مطابق ان کے بیان میں عام شہریوں، بالخصوص حساس طبقات کے حوالے سے بھی سخت اور متنازع زبان استعمال کی گئی، جسے انسانی حقوق کے تناظر میں تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق محدود ہے۔
متعلقہ افغان میڈیا ادارے نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ یہ ریمارکس انٹرویو کے دوران غصے کی حالت میں دیے گئے اور ادارہ ان خیالات کی حمایت نہیں کرتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کابل کے ڈپٹی گورنر کا یہ بیان خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔