فروری 1991 کی ایک سرد رات کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے گاؤں کونن پوشپورہ میں پیش آنے والے مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے نے خطے کی تاریخ پر ایک گہرا اثر چھوڑا۔ مقامی خواتین نے الزام عائد کیا کہ سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوجی اہلکاروں نے متعدد خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ متاثرین کی عمریں کمسن لڑکیوں سے لے کر عمر رسیدہ خواتین تک بتائی گئیں۔ 8 سال کی بچی سے لے کر 80 سال کی بزرگ خواتین تک کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی حکام نے ان الزامات کی تردید کی، جبکہ ابتدائی تحقیقات کو بعد ازاں متنازع اور ناکافی قرار دیا جاتا رہا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ واقعہ انصاف، احتساب اور سچائی کے سوالات کے ساتھ زندہ ہے۔
تحقیقات اور قانونی پیش رفت
واقعے کے بعد مختلف سطحوں پر تحقیقات ہوئیں، مگر متاثرین اور انسانی حقوق کے کارکنان کا مؤقف رہا کہ تحقیقات جامع اور غیر جانبدار نہیں تھیں۔ برسوں بعد متاثرہ خواتین نے عدالتوں سے رجوع کیا اور کیس کی دوبارہ سماعت اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
عدالتی کارروائیوں کے دوران شواہد، میڈیکل رپورٹس اور گواہیوں پر بحث جاری رہی، تاہم حتمی احتساب کے حوالے سے پیش رفت محدود رہی۔ مبصرین کے مطابق اس کیس نے مسلح تنازعات میں جنسی تشدد کے الزامات کی تحقیقات کے طریقہ کار اور استثنیٰ کے کلچر پر بڑے سوالات کھڑے کیے۔
انسانی حقوق تنظیموں کی تشویش
بین الاقوامی تنظیموں، بشمول ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل، نے مختلف ادوار میں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر رپورٹس جاری کیں جن میں جنسی تشدد کے الزامات، احتساب کے فقدان اور متاثرین کے لیے معاونت کے نظام پر تشویش ظاہر کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلح تنازعات میں ایسے جرائم کی آزاد اور شفاف تحقیقات نہ ہوں تو متاثرین کے اعتماد اور معاشرتی ہم آہنگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
پاکستانی زاویہ نظر
پاکستانی حکومت اور دفترِ خارجہ متعدد مواقع پر کونن پوشپورہ واقعے کو کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مثال کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اس کیس سمیت دیگر واقعات کی غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات ہونی چاہئیں اور متاثرین کو انصاف ملنا چاہیے۔
پاکستان عالمی فورمز، خصوصاً اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں، کشمیر کی صورتِ حال اٹھاتا رہا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ مبصر مشنوں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی دی جائے۔ پاکستانی تجزیہ کاروں کے مطابق کونن پوشپورہ کا معاملہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ احتساب اور شفافیت کے وسیع تر مسئلے کی علامت ہے۔
آج کی صورتحال اور درپیش سوالات
کونن پوشپورہ کی برسی ہر سال اس بحث کو تازہ کر دیتی ہے کہ مسلح تنازعات میں جنسی تشدد کے الزامات سے نمٹنے کے لیے کیا ادارہ جاتی اصلاحات درکار ہیں۔ متاثرین کی قانونی جدوجہد، سماجی دباؤ اور وقت کی طوالت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انصاف کا سفر کتنا دشوار ہو سکتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ایسے واقعات پر شفاف تحقیقات، گواہوں کا تحفظ، اور متاثرین کے لیے جامع طبی و نفسیاتی معاونت یقینی بنائی جائے۔
کونن پوشپورہ کا واقعہ آج بھی خطے کی سیاست، انسانی حقوق کی بحث اور پاکستان-بھارت تعلقات کے تناظر میں ایک حساس موضوع ہے۔ جب تک الزامات اور جوابی بیانات سے آگے بڑھ کر غیر جانبدار احتساب کا نظام قائم نہیں ہوتا، یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہے گا کہ انصاف کب اور کیسے ممکن ہوگا۔