افغان وزیرِ انصاف عبدالحکیم شرعی کے دور میں عدلیہ بدعنوانی، اقربا پروری اور انسانی حقوق کی پامالی کا مرکز بن گئی۔ 700 سے زائد ملازمین کی برطرفی اور ذاتی مفادات کے لیے اختیارات کے ناجائز استعمال نے افغانستان کے عدالتی نظام کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے

February 16, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور القاعدہ جیسے گروہوں کو نہ صرف پناہ دے رہی ہے بلکہ انہیں جدید اسلحہ اور سرکاری سفری دستاویزات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے

February 16, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران یو اے ای کے نائب حکمران و مشیر قومی سلامتی سے ملاقات کی، جس میں سرمایہ کاری اور دفاعی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا

February 16, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے نئے سال کے موقع پر چینی قیادت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین ہر موسم کے تزویراتی شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی ترقی و استحکام کی ضمانت ہے

February 16, 2026

بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان نے کہا ہے کہ پاکستان جغرافیائی طور پر وسطی ایشیا اور چین کے لیے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے

February 16, 2026

افغانستان کے صوبہ قندوز میں اے ایف ایف کے دستی بم حملے میں دو طالبان اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران طالبان مخالف تنظیم کی یہ تیسری بڑی کاروائی ہے

February 16, 2026

پاک افغان مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی؛ ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار

پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف بالکل واضح اور اصولی ہے۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے سرگرم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پاک افغان مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی؛ ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار

کالعدم تنظیموں سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پروپیگنڈا کیا کہ ترکی پاکستان کے حق میں جانبدارانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

October 27, 2025

استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات کے دوسرے روز چھ گھنٹے سے زائد طویل نشستوں کے باوجود کوئی قابلِ ذکر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ذرائع کے مطابق طالبان وفد نے اب تک کسی تحریری ضمانت پر اتفاق نہیں کیا اور کابل و کندھار سے مزید مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے۔ اس پیشرفت سے واضح ہوتا ہے کہ مذاکراتی ٹیم کو سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق معاملات پر فیصلہ سازی کا مکمل اختیار حاصل نہیں۔

پاکستان کا یک نکاتی ایجنڈا: سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور قابلِ تصدیق اقدامات


پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف بالکل واضح اور اصولی ہے۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے سرگرم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


سینیئر پاکستانی عہدیدار کے مطابق: “ہماری سلامتی کے خدشات ناقابلِ مفاہمت ہیں۔ تعاون صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کابل اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدام کرے۔”

پاکستان کا مطالبہ: کنٹرول واضح، تصدیق کے قابل اور مؤثر ہو


حکومتی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے وفد نے مذاکرات میں اپنا بنیادی مؤقف تین نکات میں واضح کیا ہے — کنٹرول مؤثر ہو، تصدیق کے قابل ہو، اور ہر اقدام کا نفاذ یقینی ہو۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حکومت ان اصولی تقاضوں کو تسلیم کرتی ہے تو برادرانہ اور خوشگوار تعلقات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ترکی و قطر کا کردار: غیر جانبدار ثالث، کسی فریق کا جھکاؤ نہیں


کالعدم تنظیموں سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پروپیگنڈا کیا کہ ترکی پاکستان کے حق میں جانبدارانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔


ذرائع کے مطابق “جس طرح قطر کو ایک غیر جانبدار بروکر سمجھا جاتا ہے، اسی طرح ترکی بھی غیر جانب دار ثالث ہے۔ اگر کوئی یہ تاثر دینے کی کوشش کرے کہ مذاکرات کے فسیلیٹیٹرز کسی ایک جانب جھکے ہوئے ہیں، تو یہ ایک غلط اور معاندانہ بات ہے۔”

افغان وفد کا رویہ: سنجیدگی کا فقدان اور اختیارات کی کمی


پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کا وفد یا تو مکمل اختیارات کا حامل نہیں یا سنجیدہ تعاون سے گریزاں ہے۔ ان کے مطابق طالبان وفد کا رویہ مذاکراتی عمل میں غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے، جبکہ ہر مرحلے پر کابل و کندھار سے منظوری لینا عمل کو سست اور غیر یقینی بنا رہا ہے

پاکستان کا واضح پیغام: مذاکرات امن کے لیے، کمزوری نہیں


پاکستانی وفد نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد کا عزم، مورال اور ریاستی طاقت غیر متزلزل ہے۔ کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان سیاسی، معاشی یا عسکری طور پر کمزور ہے۔ ذرائع کے مطابق “اگر کوئی بدنیتی پر مبنی مہم یا مِس ایڈونچر کی کوشش کرے گا، تو پاکستان مؤثر اور فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔”

ممکنہ نتائج: مذاکرات کی ناکامی کا بوجھ طالبان پر ہوگا


سفارتی ماہرین کے مطابق، اگر مذاکراتی عمل میں پیش رفت نہ ہوئی تو اس کی ذمہ داری طالبان وفد کی ہٹ دھرمی پر عائد ہوگی۔


ایچ ٹی این سے گفتگو میں ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ “پاکستان نے مذاکرات میں کشادہ ذہن اور اخلاص سے شرکت کی۔ مقصد صرف یہ ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی پشت پناہی ختم کرے اور پائیدار امن کی طرف بڑھے۔”

امن کی امید، لیکن فاصلہ برقرار


قطر اور ترکی کی ثالثی کے باوجود مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان گہرے عدم اعتماد، افغان وفد کے محدود اختیارات، اور دہشت گرد گروہوں کے معاملے پر اختلافات نے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔


پاکستان نے اپنا حتمی مؤقف واضح کر دیا ہے — دہشت گردی کی سرپرستی ناقابلِ قبول ہے، اور قومی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

دیکھیں: پاک افغان مذاکرات کے دوران ٹی ٹی پی کی دراندازری کی کوشش ناکام، 25 خوارج ہلاک؛ صدر، وزیراعظم کا خراج تحسین

متعلقہ مضامین

افغان وزیرِ انصاف عبدالحکیم شرعی کے دور میں عدلیہ بدعنوانی، اقربا پروری اور انسانی حقوق کی پامالی کا مرکز بن گئی۔ 700 سے زائد ملازمین کی برطرفی اور ذاتی مفادات کے لیے اختیارات کے ناجائز استعمال نے افغانستان کے عدالتی نظام کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے

February 16, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور القاعدہ جیسے گروہوں کو نہ صرف پناہ دے رہی ہے بلکہ انہیں جدید اسلحہ اور سرکاری سفری دستاویزات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے

February 16, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران یو اے ای کے نائب حکمران و مشیر قومی سلامتی سے ملاقات کی، جس میں سرمایہ کاری اور دفاعی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا

February 16, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے نئے سال کے موقع پر چینی قیادت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین ہر موسم کے تزویراتی شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی ترقی و استحکام کی ضمانت ہے

February 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *