ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، جسے اعلیٰ سطحی قومی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

February 25, 2026

وزیرِ مملکت طلال چوہدری کا دورۂ ترکیہ؛ سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور منشیات کی روک تھام کے لیے ترکیہ کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

February 25, 2026

دونوں جانب سے باقاعدہ مکالمے اور تکنیکی سطح پر روابط کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ طے شدہ امور پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس امر پر اتفاق ہوا کہ مسلسل تعاون ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک میں طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی اور ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

February 25, 2026

وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قطری وزیرِ مملکت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات؛ رمضان میں بزنس ٹاسک فورس کا اجلاس بلانے اور قطری سرمایہ کاری کی تجاویز پر عملدرآمد کا فیصلہ

February 25, 2026

بھکر کی داجل چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، انصار الاسلام نے ذمہ داری قبول کر لی؛ سکیورٹی ذرائع نے اسے ملک دشمن عناصر کی منظم سازش قرار دے دیا

February 25, 2026

مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ اور داعش سے وابستہ بعض زخمی افراد کو بھی کابل کے فوجی اسپتال، جسے اردو نظامی اسپتال کہا جاتا ہے، منتقل کیا گیا ہے۔ انہی ذرائع کے مطابق سرحدی جھڑپوں میں طالبان کے بارڈر گارڈز کے بعض اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں فوجی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

February 24, 2026

محمد گورین کی گرفتاری: طالبان کے دعوے اور زمینی حقائق

رپورٹ کے مطابق محمد گورین کی گرفتاری مکمل طور پر ترک انٹیلی جنس کی کارروائی تھی اور افغان طالبان کا اس میں کوئی کردار نہیں
رپورٹ کے مطابق محمد گورین کی گرفتاری مکمل طور پر ترک انٹیلی جنس کی کارروائی تھی اور افغان طالبان کا اس میں کوئی کردار نہیں

ملا ذبیح اللہ مجاہد کا یہ دعویٰ کہ مذکورہ کارروائی طالبان کی انٹیلی جنس نے انجام دی، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا

December 26, 2025

افغان طالبان کے ترجمان ملا ذبیح اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی میں حملے سے منسلک داعش کمانڈر محمد گورین کی گرفتاری ان کی انٹیلی جنس کارروائی کا نتیجہ ہے، تاہم حقائْ ان کے مؤقف کی تائید نہیں کرتے۔ اطلاعات کے مطابق گورین جو کابل میں مقیم تھا، افغانستان سے بلوچستان کے راستے پاکستان داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ پاکستانی خفیہ اداروں نے اس کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا اور کارروائی کی اور وہ زخمی ہو کر افغانستان میں فرار ہو گیا۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق اسے بعد ازاں ایک مقامی جنگجو سردار نے مالی مفادات کے عوض ترک خفیہ اداروں کے حوالے کیا۔ اس پورے عمل میں طالبان کی براہِ راست انٹیلی جنس کارروائی کے کوئی شواہد دستیاب نہیں ہیں۔

ترک انٹیلی جنس کی کامیابی

رپورٹ کے مطابق محمد گورین کی گرفتاری میں افغان طالبان کا نہ تو کوئی عملی کردار تھا اور نہ ہی ان کی جانب سے کسی قسم کا انٹیلی جنس تعاون سامنے آیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی مکمل طور پر ترک خفیہ ادارے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کا نتیجہ تھی جبکہ طالبان سے منسوب کسی دعوے کی تائید زمینی حقائق یا شواہد سے نہیں ہوتی۔

واقعاتی ترتیب اور زمینی حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ محمد گورین کی گرفتاری مختلف انٹیلی جنس معلومات، مقامی شناخت اور بین الاقوامی رابطوں کا نتیجہ تھی نہ کہ طالبان کی کسی خفیہ کامیابی کا۔ اس تناظر میں ملا ذبیح اللہ مجاہد کا یہ دعویٰ کہ مذکورہ کارروائی طالبان کی انٹیلی جنس نے انجام دی، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

دیکھیں: شمالی وزیرستان حملے کا دوسرا خودکش بمبار بھی افغان شہری ”عزام” نکلا

متعلقہ مضامین

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، جسے اعلیٰ سطحی قومی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

February 25, 2026

وزیرِ مملکت طلال چوہدری کا دورۂ ترکیہ؛ سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور منشیات کی روک تھام کے لیے ترکیہ کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

February 25, 2026

دونوں جانب سے باقاعدہ مکالمے اور تکنیکی سطح پر روابط کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ طے شدہ امور پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس امر پر اتفاق ہوا کہ مسلسل تعاون ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک میں طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی اور ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

February 25, 2026

وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قطری وزیرِ مملکت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات؛ رمضان میں بزنس ٹاسک فورس کا اجلاس بلانے اور قطری سرمایہ کاری کی تجاویز پر عملدرآمد کا فیصلہ

February 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *