خطے میں شدت پسندی 21ویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے، اور پاکستان و افغانستان اس مسئلے کا سب سے نمایاں محور ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 2,640 کلومیٹر طویل سرحد نے ایک طرف تجارت اور تاریخی روابط کو جنم دیا ہے، مگر دوسری جانب یہ بارڈر دہائیوں سے دہشت گرد گروہوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے گزرگاہ بھی رہا ہے۔ پاکستان نے بارہا افغان حکومتوں، بشمول موجودہ طالبان انتظامیہ، کو مشترکہ کارروائیوں کی پیشکش کی ہے، لیکن پیش رفت ہمیشہ سیاسی بداعتمادی اور بیانیہ سازی کی جنگ کے باعث متاثر ہوئی ہے۔ تازہ مثالیں داعش خراسان سے متعلق غلط معلومات اور طالبان کے گمراہ کن دعوے ہیں جو پاکستان کے گرد گھومتے ہیں۔
غلط دعووں کا سلسلہ؛ قتل، پروپیگنڈا اور حقیقت
حال ہی میں افغان طالبان سے منسلک انٹیلی جنس پلیٹ فارمز، خاص طور پر ’’المِرصاد‘‘ نے دعویٰ کیا کہ داعش خراسان کے ایک مبینہ کمانڈر ’’برہان عرف زید‘‘ کو پنجاب، پاکستان میں نامعلوم افراد نے قتل کیا۔ اس دعوے کو سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی بغیر تصدیق اچھالا اور اسے ’’پاکستان کی خفیہ کارروائی‘‘ قرار دیا۔ تاہم پاکستان کی وزارت اطلاعات نے واضح تردید کی کہ نہ تو کوئی آپریشن ہوا اور نہ مقتول کا داعش سے کوئی تعلق تھا۔ تفتیش کے مطابق یہ واقعہ 5 مارچ 2025 کو قصور کے علاقے حبیب آباد میں پیش آیا—a محض قتل و ڈکیتی کا معاملہ۔ پولیس نے اگلے روز ایف آئی آر بھی درج کی، جبکہ مقتول اپنے سسر کے گھر پر رہائش پذیر تھا۔
🔎 Fact Check
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) November 17, 2025
🟠 Claim:
Zalmay Khalilzad tweet claimed that a senior ISIS-Khorasan commander, Burhan alias Zaid, has been killed in the Pethak area of Akhtarabad in Punjab, Pakistan implying the presence and activity of ISIS-K elements inside the province.
✅ Reality:
▪ The… pic.twitter.com/rRsEiGNQvl
اسی طرح المِرصاد نے ایک اور دعوے میں کراچی میں مارے جانے والے شخص ’’حسن‘‘ کو ’’داعش کمانڈر‘‘ قرار دیا، جسے سابق CIA افسرہ سارہ ایڈمز نے مکمل جھوٹ ثابت کیا۔ ان کے مطابق حسن نہ داعش کا رکن تھا اور نہ کسی تنظیم سے وابستہ۔ طالبان نے اس کی جائے پیدائش بھی غلط بتائی وہ خیبرپختونخوا نہیں بلکہ افغانستان کے ضلع اچین کا رہائشی تھا، جو خود داعش خراسان کا گڑھ ہے۔ ایڈمز نے طالبان انٹیلی جنس کو ’’پروپیگنڈا مشین‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی معلومات دہشت گرد تنظیموں کو مضبوط کرتی ہیں اور حقیقی انسدادِ دہشت گردی کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔
More ISIS Lies from the Taliban
— Sarah Adams (@TPASarah) October 5, 2025
So, for more than a day now, the Taliban’s General Directorate of Intelligence (GDI) Propaganda Commission (yup, that’s a real office)—via their Al-Marsad mouthpiece—has been peddling the nonsense that a senior ISKP member named Hasan was killed… pic.twitter.com/xRRaXDd1rU
داعش کو پاکستان سے جوڑنے کی پالیسی: تاریخی پس منظر
داعش خراسان جنوری 2015 میں وجود میں آئی۔ اس کی تشکیل زیادہ تر ٹی ٹی پی کے ٹوٹنے والے دھڑوں اور چند افغان طالبان کمانڈروں کے اتحاد سے ہوئی۔ یہ تنظیم ابتدا سے ہی سرحد کے دونوں اطراف متحرک تھی، مگر اس کا مرکز اور انفراسٹرکچر مسلسل افغانستان میں رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق داعش کی بنیادی قیادت اور تربیتی ڈھانچہ ننگرہار، کنڑ، بدخشاں، جوزجان اور سر ای پل جیسے افغان علاقوں میں موجود ہے، جبکہ کابل جیسے شہری مراکز میں انہوں نے اعلیٰ نوعیت کی کارروائیاں کیں۔
طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کابل نے داعش کی بڑی کارروائیوں مثلاً کابل ایئرپورٹ دھماکہ اور شیعہ کمیونٹیز پر حملوں کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیانیے کا مقصد عالمی دباؤ کم کرنا تھا، بالخصوص اس وقت جب دنیا طالبان سے دوحہ معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کا تقاضا کر رہی تھی۔
One of the Taliban’s favorite lies is that they pushed Islamic State—Khorasan Province (ISKP) out of Afghanistan. You’ll even hear some U.S. officials repeat it—though the more careful ones hedge, saying there are still "remnants" the Taliban is struggling with in the east. The… pic.twitter.com/ue8BBIlh19
— Sarah Adams (@TPASarah) April 3, 2025
افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی – پاکستان کی تشویش
پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق افغان طالبان نہ صرف ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں بلکہ انہیں ٹرانسپورٹ، تحفظ، رہائش اور آپریشنل مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اسلام آباد نے 58 سے زائد تربیتی و اسلحہ ڈپو کی نشاندہی کی ہے جو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے زیرِ استعمال ہیں۔ جون 2025 کے بعد سے تقریباً 4,000 سے زائد ٹی ٹی پی جنگجو مختلف راستوں سے خیبرپختونخوا میں داخل ہوئے، جبکہ 1,200 کے قریب جنوبی افغانستان سے بلوچستان آئے۔ اسی ہفتے ننگرہار میں آئی ای ڈی حملے میں ٹی ٹی پی کمانڈر قاری ہدایت اللہ کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نیٹ ورک افغانستان میں پوری طرح فعال ہیں۔
طالبان کی جانب سے مذاکراتی مباحثے بھی اسی تضاد کا شکار رہے۔ طالبان کے نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجيب نے اعتراف کیا کہ استنبول مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کہ طالبان نے ٹی ٹی پی یا بی ایل اے کے خلاف کارروائی سے صاف انکار کیا اور الٹا تجویز دی کہ اگر پاکستان ٹی ٹی پی کو ’’اچھے لوگ‘‘ قرار دے دے تو انہیں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کا داعش کے خلاف ریکارڈ؛ طالبان کے دعووں کے خلاف
پاکستان نے حالیہ برسوں میں داعش خراسان کے خلاف نمایاں کارروائیاں کی ہیں۔ 2025 میں محمد شریف اللہ عرف جعفر کو پاک–افغان سرحد کے قریب گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا گیا، جو کابل ایئرپورٹ حملے کا اہم کردار تھا۔ 2024 میں 48 سے زائد داعش کارندے مختلف شہروں سے پکڑے گئے، جن کا تعلق روس اور ایران میں ہونے والے حملوں سے تھا۔ 2023 میں ہزارہ کان کنوں کے قتل عام کا ماسٹر مائنڈ عبدال باری کو کوئٹہ کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔
پاکستان اور افغانستان کو درپیش شدت پسندی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں، مگر افغان طالبان کی جانب سے جھوٹی معلومات اور پروپیگنڈا نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے خطرناک ہے بلکہ حقیقی دہشت گرد گروہوں کو مزید جگہ فراہم کرتا ہے۔ غلط رپورٹس جیسے پنجاب کے قتل کا معاملہ واضح کرتی ہیں کہ طالبان اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے داعش سے متعلق جھوٹے الزامات پاکستان کی طرف دھکیلتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے نے مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنا ہے تو پروپیگنڈا نہیں، عملی تعاون واحد راستہ ہے۔
دیکھیں: طالبان کا بھارت کی جانب رُخ: وقتی فائدہ اور دیرپا نقصانات