طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے طالبان حکام پر کسی بھی قسم کی تنقید کو باقاعدہ جرم قرار دے دیا ہے۔ دو روز قبل جاری ہونے والے ایک حکم نامے میں شہریوں، صحافیوں اور میڈیا اداروں کی طرف سے طالبان اہلکاروں، حکام اور اداروں پر تنقیدکو غیر شرعی اقدام قرار دیتے ہوئے جرم قرار دے دیا ہے ،اور اس کی خلاف ورزی پر قید، جرمانہ اور دیگر سزائوں کا اعلان کیا گیا ہے ْ۔ حکم نامے میں ’’بے بنیاد‘‘ اور ’’خلاف حقیقت‘‘ تنقید کی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، مگر ان کی کوئی تعریف یا معیار طے نہیں کیا گیا۔ یعنی یہ فیصلہ خود طالبان کریں گے کہ کون سی بات حقیقت پر مبنی ہے اور کون سی الزام یا بہتان۔
یہ حکم نامہ نہ صرف آزادی اظہار پر براہ راست قدغن ہے بلکہ طالبان کے اندر جاری طاقت کی کشمکش اور خوف کی فضا کا بھی کھلا ثبوت ہے۔ حکم نامے کے مطابق طالبان اہلکاروں کی توہین، ان کی عزت پر حرف، حتیٰ کہ ان کے لباس کو نقصان پہنچانا بھی قابل سزا جرم ہوگا۔ عدالت میں کارروائی کے دوران اگر کوئی شخص جج کی توہین کرے گا یا عدالتی عمل میں خلل ڈالے گا تو اس کے خلاف بھی مقدمہ چلایا جائے گا، تاہم عدالت کو معاف کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ حکم تمام افغان شہریوں، طالبان ارکان اور میڈیا اداروں پر فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے۔ ’’بے بنیاد‘‘ یا ’’خلاف حقیقت‘‘ ہونے کا معیار جاری نہیں کیا گیا۔ یہ اب مکمل طور پر طالبان حکام کی صوابدید پر ہے کہ وہ کسی بیان کو الزام قرار دیں یا حقیقت۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اب کوئی بھی تنقید، کوئی بھی سوال اور کوئی بھی اختلاف بغاوت یا جرم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
شریعت کی آڑ میں غیر شرعی احکامات جاری کرنا طالبان کے لیے نیا نہیں۔ یہ عمل دراصل جنوری 2025 میں اس وقت کھل کر سامنے آیا جب 20 جنوری کو ملا ہیبت اللہ کے قریبی ساتھی اور بلخ کے گورنر ملا یوسف وفا نے چیف جسٹس ملا عبدالحکیم حقانی کو ایک خط لکھا جس میں سابق نائب وزیر خارجہ عباس ستنکزئی کے خلاف کورٹ مارشل کامطالبہ کیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے ملا ہیبت اللہ کی پالیسیوں پر تنقیدی بیانات دیے تھے۔ اس خط کی خبر ملتے ہی عباس ستنکزئی افغانستان سے فرار ہو گئے۔ بعد ازاں انہیں ان کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا۔ اس معاملے پر جب کوئی عملی پیش رفت نہ ہوئی تو ملا یوسف وفا نے 25 فروری 2025 کو چیف جسٹس کو دوسرا خط لکھا۔ پہلا خط انہوں نے ذاتی حیثیت میں لکھا تھا جبکہ دوسرا خط انہوں نے بطور گورنر، سرکاری سطح پر، گورنر ہاؤس کی مہر کے ساتھ بطور مدعی ارسال کیا۔اس دوسرے خط میں نہ صرف عباس ستنکزئی بلکہ ان تمام طالبان رہنماؤں کے خلاف فوجی عدالت قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا جو ملا ہیبت اللہ سے اختلاف کرتے ہوئے ان کے خلاف بیانات دے رہے تھے۔
خط میں کہا گیا کہ ان سب کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی جائے، پہلے خط کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا کہ عباس ستنکزئی کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دیگر اہم شخصیات نے بھی ’’امیر المومنین‘‘ کے خلاف بولنا شروع کر دیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ عباس ستنکزئی اور دیگر کے خلاف فوجی عدالت قائم کی جائے۔ اس خط میں یہ بھی کہا گیا کہ امیر المومنین کی مخالفت کو غداری قرار دیا جانا چاہیے۔یہ خط رسمی شکایت کے طور پر رجسٹرڈ کرایا گیا اور گورنر ہاؤس کی مہر کے ساتھ چیف جسٹس کے دفتر میں جمع کرایا گیا، جس سے واضح ہوگیا کہ یہ کوئی ذاتی رنجش یا انفرادی غصہ نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس خط کے بعد طالبان کے اندر اختلافات صرف قندھاری اور حقانی گروپ تک محدود نہیں رہے بلکہ خود قندھاری گروپ کے اندر بھی دھڑے بندی اور اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ تمام اعلیٰ سطحی فیصلے اور تقرریاں اب انہی گروپ بندیوں کو سامنے رکھ کر کی جا رہی ہیں۔ اس نئی صف بندی میں ملا ہیبت اللہ نے قندھار گروپ سے الگ ہو کر اپنا ایک الگ گروپ بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس گروپ میں ملا یوسف وفا کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
آنے والے دنوں میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملا یوسف وفا کو ملا شیرین کی جگہ قندھار کا گورنر اور ملا ہیبت اللہ سیکریٹریٹ کا انچارج مقرر کیا جائے گا۔ ملا وفا اپنا زیادہ تر وقت ملا ہیبت اللہ کے ساتھ ہی گزارتے ہیں اور انہیں ان کا سب سے قابل اعتماد آدمی سمجھا جاتا ہے۔ہیبت اللہ گروپ کے دیگر اہم ارکان میں چیف جسٹس ملا عبدالحکیم، وزیر اعلیٰ تعلیم ملا ندا محمد ندیم، نائب وزیر دفاع عبدالقادر ذاکر اور نائب وزیر داخلہ صدر ابراہیم شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر اہم معاملے میں ملا ہیبت اللہ کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی پالیسیوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔
قندھاریوں میں دوسرا بڑا گروپ ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں ہے جسے کابل گروپ بھی کہا جاتا ہے۔ اس گروپ میں وزیر خارجہ امیر خان متقی، گل آغا اسحاق زئی، شہاب الدین دلاور اور ملا خیرخواہ شامل ہیں۔ تاہم یہ گروپ مضبوط اور متحد نہیں۔ اس میں وفاداریاں بدلتی رہتی ہیں اور لوگ موقع دیکھ کر ادھر ادھر ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اسے ایک غیر مستحکم گروپ کہا جاتا ہے۔ملا یعقوب اس پوری گروپ بندی میں کسی ایک گروپ کے ساتھ واضح طور پر کھڑے نظر نہیں آتے۔ کبھی وہ ملا ہیبت اللہ کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں، کبھی ملا برادر کے قریب اور بعض مواقع پر حقانی گروپ کے ساتھ بھی۔ سورسز کا کہنا ہے کہ عباس ستنکزئی کو افغانستان سے نکلوانے میں بھی ملا یعقوب کا کردار رہا ہے۔
اگر یہ درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اندرونی سطح پر اعتماد کی دیواریں مکمل طور پرمنہدم ہو چکی ہیں۔قندھار سے آنے والی اطلاعات کے مطابق گورنر قندھار ملا شیرین اگرچہ ملا ہیبت اللہ کے قریب سمجھے جاتے ہیں لیکن وہ اب تک خود کو گروپ بندی سے الگ رکھنے کی کوشش میںہیں۔ تاہم ان کی ہمدردیاں سراج حقانی کے ساتھ بتائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قندھار سیکریٹریٹ میں ملا شیرین کی تبدیلی کی باتیں زور پکڑ رہی ہیں۔طالبان میں موجود تقسیم کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ملا یوسف وفا کا چیف جسٹس کو لکھا گیا خط اور اس کے ایک ماہ بعد مقدمے کی رسمی رجسٹریشن کی درخواست محض ملا وفا کی ذاتی خواہش نہیں تھی بلکہ ہیبت اللہ گروپ کا متفقہ فیصلہ تھا۔ ملا وفا اور چیف جسٹس دونوں ملا ہیبت اللہ کے انتہائی وفادار سمجھے جاتے ہیں اور ان کی رضامندی کے بغیر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھاتے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فروری 2025 میں دائر کی گئی اس درخواست کے ذریعے ہیبت اللہ گروپ نے عباس ستنکزئی کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دینا چاہا تھا کہ ملا ہیبت اللہ کی مخالفت غداری ہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ سراج حقانی اور دیگر ناراض گروپوں کو ڈرایا جا سکے اور ممکنہ بغاوت کو روکا جا سکے۔ عباس ستنکزئی کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ کمزور تھے، کابل میں ان کی سیاسی پوزیشن مضبوط نہیں تھی اور ان کے پاس کوئی مسلح طاقت نہیں تھی۔لیکن اس حکمت عملی کے باوجود بغاوت کو روکا نہیں جا سکا۔ سراج حقانی کی مزاحمت نہ صرف برقرار رہی بلکہ مزید منظم ہو گئی۔ شمالی افغانستان میں بھی طالبان کے خلاف بغاوت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔ پنجشیر، بدخشاں اور دیگر علاقوں میں مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اب اطلاعات یہ ہیں کہ فروری میں چیف جسٹس کے دفتر میں رجسٹرڈ اس درخواست کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ تاہم ایک بنیادی فرق ہے۔ پہلے ہیبت اللہ عدالت کے ذریعے مخالفین کو باغی قرار دلوانا چاہتے تھے۔ اب انہوں نے عدالت کا سہارا لینے کے بجائے براہ راست اپنے حکم سے اختلاف کو بغاوت قرار دے دیا ہے اور سزاؤں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔یہی وہ پس منظر ہے جس میں ملا ہیبت اللہ کا تازہ حکم نامہ سامنے آیا ہے۔ اس حکم نامے کا اصل ہدف عام شہری یا صحافی نہیں بلکہ طالبان کے اندر موجود مخالف آوازیں بھی ہیں۔ یہ حکم نامہ دراصل اندرونی اختلاف کو دبانے کی ایک کوشش ہے۔طالبان قیادت اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر اختلاف کو کھل کر بولنے دیا گیا تو یہ اختلاف بغاوت میں بدل سکتا ہے۔ اسی لیے اب زبان بندی کی جا رہی ہے۔
میڈیا کو خاموش کیا جا رہا ہے۔ عام شہریوں کو ڈرایا جا رہا ہے اور طالبان کے اپنے لوگوں کو بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ طالبان کے اندر طاقت کی کشمکش ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ قندھاری، حقانی، شمالی ،کابل اور ہیبت اللہ گروپ کے درمیان جو رسہ کشی چل رہی ہے وہ اب منظر عام پر آ چکی ہے۔ فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ کھلے حکم ناموں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
ملا ہیبت اللہ کی یہ کوشش ہے کہ وہ شریعت کے نام پر اپنی گرفت مضبوط کریں اور ہر مخالف آواز کو غیر شرعی، باغی اور غدار قرار دیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے اختلاف ختم ہو جائے گا یا یہ مزید بڑھے گا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جبر اختلاف کو دباتا نہیں بلکہ اسے اندر ہی اندر مضبوط کرتا ہے۔
افغانستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اقتدار کی لڑائی، ذاتی وفاداریاں اور گروہی مفادات ریاستی نظام پر حاوی ہو چکے ہیں۔ ملا ہیبت اللہ کا تازہ حکم نامہ اسی بحران کی ایک کڑی ہے۔ یہ حکم نامہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں طالبان کے اندر ٹکراؤ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اگر اختلاف کو بغاوت کہہ کر دبایا گیا تو اس کا نتیجہ صرف ایک ہوگا، خاموشی کے پیچھے جمع ہونے والا لاوا اور زیادہ خطرناک ہوگا۔
دیکھیں: طالبان کی جانب سے عوامی مظاہروں پر تشدد کے مبینہ واقعات؛ اے ایف ایف کی شدید مذمت