جب رسول اکرم ﷺ اپنے تین سو تیرہ صحابہ کے ساتھ اس مقام پر پہنچے تو یہ محض ایک فوجی مقابلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی آزمائش تھی جس میں ایک طرف ایمان سے سرشار مگر وسائل کے لحاظ سے کمزور مسلمان تھے اور دوسری طرف قریشِ مکہ کا طاقتور لشکر تھا جس کی تعداد تقریباً ایک ہزار کے قریب تھی۔ مگر اس ایک روزہ معرکے نے تاریخ کا رخ ہمیشہ کیلئے بدل دیا اور ایمان اور نظریے کی طاقت اسلحے و افرادی قوت سے کہیں معتبر ٹھہری۔