مقامی سطح پر موجو سورسز کا دعویٰ ہے کہ تاجک بارڈر پر ٹی ٹی ٹی کے مراکز میں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد بھی موجود ہیں اور انہیں اضلاع میں ٹی ٹی ٹی کے ساتھ ساتھ ای ٹی آئی ایم کے دہشت گردوں کو بھی افغان رجیم کی سرپرستی میں رکھا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر افغان طالبان پوری دنیا میں خود کو داعش مخالف قرار دیتے ہیں لیکن بدخشاں کے ان سرحدی اضلاع میں داعش کھلے بندوں موجود ہے اور اس کے مراکز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی بلکہ انہیں سہولیتیں دی جا رہی ہیں۔