یہ لمحہ ڈاکٹر نصرت پروین کے لیے غیر متوقع اور ہتک آمیز تھا۔ اسٹیج پر موجود دو افراد، جن میں ریاست کے وزیرِ داخلہ سمرت چودھری بھی شامل تھے، نے رسمی انداز میں مداخلت کی کوشش کی، جبکہ دیگر افراد اس واقعے کو ایک غیر سنجیدہ مذاق سمجھتے ہوئے ہنستے رہے، جس نے صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کیا۔