طالبان کے تین برسوں میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہو گئیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے اور حکمرانی کا شدید خلا پیدا ہو گیا۔ ملک اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ عوام کے لیے آنے والے دن محض بقا کی جنگ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اوچا کے مطابق جس نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، وہ دراصل بڑے بحران کی ایک جھلک ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ باقی نصف بھی غربت، غذائی قلت، مہنگائی اور سماجی انتشار کی لپیٹ میں ہے۔