وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے مذاکرات کے بعد بیان میں کہا کہ “پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، مگر اپنی سرحدی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔” انہوں نے واضح کیا کہ “اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رہی تو پاکستان معاہدے کو غیر مؤثر سمجھنے میں حق بجانب ہوگا
استنبول مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ طالبان وفد کے اندرونی اختلافات اور امریکا کو بطورِ ضامن لانے کے غیر متوقع مطالبے تھے، جس کا واضح مقصد مالی امداد بحال کرنا تھا
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے
استنبول مذاکرات میں پاکستانی وفد نے امن و امان سے متعلق اہم مطالبات پیش کیے لیکن طالبان وفد کی جانب سے مثبت پیش رفت اور سنجیدگی نہ ہونے کے باعث مذاکرات بغیر کسی نتیجہ کے روک دیے گئے