ایک سینئر پاکستانی اہلکار کے مطابق، “بات صرف ریاستوں کے درمیان ہوگی۔ افغان حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو وہ عملی اور قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔ ہم کسی قیمت پر اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نہیں نکلتا۔
جنرل ساحر شمشاد نے کہا ہے کہ کراچی اور چٹاگانگ کے درمیان بحری راستہ پہلے ہی فعال ہو چکا ہے جبکہ ڈھاکا اور کراچی فضائی رابطہ بھی آئندہ چند ماہ میں بحال کیا جائے گا۔ جس سے تجارت اور عوامی سطح کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی
پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف بالکل واضح اور اصولی ہے۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے سرگرم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مبصرین کے مطابق، فرانس 24 کی یہ رپورٹ صحافتی توازن سے عاری ہے اور اس کا مقصد ایک قانونی انتظامی فیصلے کو بین الاقوامی تنازع کی صورت میں پیش کرنا ہے، جو نہ صرف صحافتی اصولوں کے منافی ہے بلکہ پاکستان کے خلاف منفی بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
افغان وفد کی قیادت نجيب حقانی کر رہے ہیں، جو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے سینئر رکن ہیں اور سراج الدین حقانی کی نگرانی میں سرحدی معاملات کے بعض امور دیکھ رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کی جانب سے یہ پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے وہ تمام گاڑیاں بلوچستان سکیورٹی فورسز کو دینے کا مطالبہ کیا تھا جسے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منظور کر لیا تھا۔