چینی وزیرِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے یوکرین اور غزہ جیسے تنازعات کا سیاسی حل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

June 17, 2026

بھارتی جریدے کے مطابق مودی حکومت کی انتہا پسند ہندوتوا پالیسیوں اور حامیوں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کے باعث مغرب میں مقیم بھارتیوں کو ہندوفوبیا کا سامنا ہے۔

June 17, 2026

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم قیمتیں کم ہونے پر عوام کو مکمل ریلیف دیا جائے گا، جبکہ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے بند کیے جا رہے ہیں۔

June 17, 2026

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے کہا ہے کہ امریکا اقوام متحدہ میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی بلیک لسٹنگ کے لیے پاکستان اور چین کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرے۔

June 17, 2026

امریکی جریدے نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث پاکستان اور خطے کی سکیورٹی پر دباؤ میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔

June 17, 2026

پنجاب حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 5903 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا، جس میں تنخواہیں 7 اور پنشن 3.5 فیصد بڑھائی گئی ہے۔

June 17, 2026

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں شروع، 3 نکاتی ایجنڈے پر گفتگو

افغان وفد کی قیادت نجيب حقانی کر رہے ہیں، جو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے سینئر رکن ہیں اور سراج الدین حقانی کی نگرانی میں سرحدی معاملات کے بعض امور دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں شروع، 3 نکاتی ایجنڈے پر گفتگو

پاکستانی وفد میں سات اراکین شامل ہیں، جن میں انٹیلیجنس، سکیورٹی اور بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدیداران شامل ہیں۔ تاہم سرکاری طور پر پاکستانی نمائندوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

October 25, 2025

پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کے دوسرے دور کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ یہ مذاکرات قطر اور ترکیہ کی مشترکہ ثالثی میں ہو رہے ہیں اور ان کا مقصد حالیہ سرحدی کشیدگی کے بعد ابھرنے والی نازک جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں تین نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کی جا رہی ہے، جس میں سرحدی تحفظ، تجارتی گزرگاہوں کی بحالی اور انٹیلی جنس تعاون شامل ہیں۔

افغان وفد کی قیادت نجيب حقانی کر رہے ہیں، جو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے سینئر رکن ہیں اور سراج الدین حقانی کی نگرانی میں سرحدی معاملات کے بعض امور دیکھ رہے ہیں۔ وفد میں سہیل شاہین، انس حقانی، وزارتِ خارجہ کے سیاسی امور کے ڈائریکٹر نور احمد نور، وزارتِ دفاع کے نائب نورالرحمان نصرت اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق کندھاری قیادت نے اس بار ایک چھوٹا اور زیادہ منظم وفد تشکیل دیا ہے، جبکہ جی ڈی آئی کے سربراہ عبد الحق وثیق کو شامل نہیں کیا گیا۔

پاکستانی وفد میں سات اراکین شامل ہیں، جن میں انٹیلیجنس، سکیورٹی اور بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدیداران شامل ہیں۔ تاہم سرکاری طور پر پاکستانی نمائندوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے شریک دو کلیدی ارکان کا تعلق عسکری اداروں سے ہے۔

واضح رہے کہ مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں منعقد ہوا تھا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس معاہدے پر بظاہر عمل درآمد جاری ہے، تاہم چودہ دن گزرنے کے باوجود طورخم، اسپن بولدک، شمالی و جنوبی وزیرستان اور کرم کی تجارتی گزرگاہیں تاحال بند ہیں، جس سے تجارت اور نقل و حمل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

استنبول مذاکرات کو تجزیہ کار ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان بگڑتے تعلقات میں اعتماد سازی کی سمت ایک نئی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

دیکھیں: دوحہ مذاکرات کامیاب؛ پاکستان اور افغانستان کا فوری جنگ بندی اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے پر اتفاق

متعلقہ مضامین

چینی وزیرِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے یوکرین اور غزہ جیسے تنازعات کا سیاسی حل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

June 17, 2026

بھارتی جریدے کے مطابق مودی حکومت کی انتہا پسند ہندوتوا پالیسیوں اور حامیوں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کے باعث مغرب میں مقیم بھارتیوں کو ہندوفوبیا کا سامنا ہے۔

June 17, 2026

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم قیمتیں کم ہونے پر عوام کو مکمل ریلیف دیا جائے گا، جبکہ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے بند کیے جا رہے ہیں۔

June 17, 2026

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے کہا ہے کہ امریکا اقوام متحدہ میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی بلیک لسٹنگ کے لیے پاکستان اور چین کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرے۔

June 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *