فوجی ترجمان نے کہا کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بگرام کی دوبارہ واپسی یا بحالی عملی طور پر پیچیدہ اور مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، اس میں بڑے فوجی وسائل اور خطّے میں طویل مدت کے دفاعی انتظامات درکار ہوں گے۔
پاکستان واضح پیغام دے رہا ہے: مکالمہ خوش آئند ہے لیکن عملی اقدامات کے بغیر اعتماد بحال نہیں ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا افغانستان واقعی اپنے وعدوں کو عملی شکل دینے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔