پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے واضح اعلان کیا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف ان کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلا رعایت کارروائیاں کی جائیں گی۔ ترجمان کے مطابق ریاستِ پاکستان اپنی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ہر حملے کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ سرحد پار موجود دہشتگرد گروہ پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری میں ملوث ہیں، جن کے خلاف کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔
بنوں حملہ: بروقت کارروائی سے بڑا سانحہ ٹل گیا
ترجمان کے مطابق گزشتہ روز بنوں میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود گل بہادر گروپ سے ملے ہیں۔ دہشتگردوں کا مقصد بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے بڑے سانحے کو ٹال دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق خفیہ اطلاع ملنے پر فورسز نے فوری آپریشن شروع کیا اور خوارج کے ٹھکانے کا سراغ لگایا۔ کارروائی کے دوران بارود سے بھری گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور کو اگلے دستے نے بروقت روک لیا۔ جب دہشتگرد اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہوئے تو انہوں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی فورسز کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی۔
دو جوان شہید، پانچ دہشتگرد ہلاک
حملے کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گلفراز اور سپاہی کرامت شاہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں پانچ خوارج ہلاک کر دیے گئے جبکہ علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کر کے سرچ آپریشن جاری رکھا گیا۔
’فیصلہ کن مرحلہ‘ اور آخری دہشتگرد تک کارروائی کا عزم
بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ریاست دشمن عناصر کو کہیں بھی محفوظ پناہ گاہ میسر نہیں ہوگی۔ آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دفاعی حلقوں کے مطابق حالیہ بیان قومی سلامتی کی پالیسی میں سختی اور واضح پیغام کی علامت ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی عوام کی بڑی تعداد نے سیکیورٹی فورسز کے بروقت اقدام کو سراہتے ہوئے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور دہشتگردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی حمایت کی ہے۔