وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ عسکری کامیابی “معرکہ حق” کے بعد پاکستان کے دفاعی سازوسامان کی بین الاقوامی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا، بہت سے ممالک دفاعی سازوسامان کے حصول کے لیے ہم سے رابطے اور بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ ایک مثبت ترقی ہے جو ہماری دفاعی صنعت کو فروغ دے گی اور ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچائے گی۔
انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ “معرکہ حق” سے کیا مراد ہے، لیکن اس بیان کے پس منظر میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیوں اور میزائل ٹیکنالوجی کے کامیاب تجربات کو دیکھا جا رہا ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے دیگر اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو کی، جس میں انہوں نے “ورلڈ لبرٹی فنانشل” کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تصدیق کی۔ اسی طرح وزیراعظم نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا اور “تیمور ویپن” کے کامیاب تجربے کی نشاندہی کی۔ تعلیم سے متعلق انہوں نے بلوچستان میں سات نئے “دانش اسکول” قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔
تجزیہ اور ردعمل
دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ بات چیت کامیاب ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی دفاعی برآمدات میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے، جو روایتی طور پر چند منتخب ممالک تک ہی محدود رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسی کسی بھی برآمدات پر بین الاقوامی معاہدوں اور عالمی ردعمل کا دھیان رکھنا ہوگا۔ اسی طرح معاشی حلقوں نے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ معاہدے کو زر مبادلہ کے ذخائر اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
دیکھیں: عمران احمد صدیقی کابل میں پاکستان کے نئے سفیر تعینات؛ عبید نظامی جرمنی میں پاکستان کے سفیر ہوں گے