اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے افغانستان کی سنگین سکیورٹی صورتحال اور طالبان حکومت کی ناکامیوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چار سال گزرنے کے باوجود طالبان ایک ذمہ دار حکومتی ادارے کے طور پر ابھرنے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔
افغانستان: دہشت گردی کا مرکز
عاصم افتخار نے اجلاس میں حقائق پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اب عالمی دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش-خراسان، القاعدہ اور ای ٹی آئی ایم سمیت 20 سے زائد دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے اپنی کاروائیاں کر رہے ہیں۔ یہ تنظیمیں یہاں نہ صرف تربیت حاصل کر رہی ہیں بلکہ سرحد پار حملے، دراندازی اور خودکش بم دھماکے بھی منظم کر رہی ہیں۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں
پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔ گزشتہ برس کابل کے اعلیٰ سطحی دورے، تجارتی مراعات، انسانی امداد اور ویزا پالیسی میں نرمی جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایک مستحکم افغانستان چاہتا ہے۔ تاہم قطر، ترکیہ اور سعودی عرب کی ثالثی کے باوجود طالبان نے ہمیشہ دہشت گردوں کی موجودگی سے انکار کیا اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی ٹھوس کارروائی کرنے سے گریز کیا۔
پاکستان کا حقِ دفاع اور آپریشنز
عاصم افتخار نے فروری میں کی گئی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کے بعد انٹیلی جنس کی بنیاد پر ٹی ٹی پی اور داعش کے سات دہشت گرد کیمپوں کو ہدف بنایا۔ انہوں نے طالبان کے اس پروپیگنڈے کو مسترد کر دیا جس میں وہ خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 26 فروری کو طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کیا، اور یہ کارروائیاں تب تک جاری رہیں گی جب تک دہشت گردوں کا نیٹ ورک مکمل ختم نہیں ہو جاتا۔
عالمی برادری کے لیے واضح پیغام
پاکستان نے سلامتی کونسل کے ذریعے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ جو حکومت دہشت گردوں کو پناہ دیتی ہے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرتی ہے، وہ کسی بھی صورت قانونی حیثیت کی دعویدار نہیں ہو سکتی۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ طالبان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ پاکستان کا مطالبہ ایک ہی ہے: دہشت گردوں کے خلاف ناقابلِ واپسی اور قابلِ تصدیق کاروائی۔