افغانستان کی اہم سیاسی جماعت حزب وحدت اسلامی سے محمد محقق کے حامی درجنوں ارکان نے اجتماعی استعفے دے دیے۔ اراکین نے پارٹی قیادت کی مرکزیت پسندی اور ہزارہ برادری سمیت مقامی نمائندگی کے فقدان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے

February 4, 2026

سی این این کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں چھوڑے گئے 3 لاکھ سے زائد امریکی ہتھیار ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کے ہاتھ لگے ہیں

February 4, 2026

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف کھیلنے سے پاکستان کے ممکنہ انکار نے آئی سی سی کو پریشان کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق آئی سی سی نے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو پی سی بی کے ساتھ ‘بیک چینل مذاکرات’ کی ذمہ داری سونپی ہے تاکہ عالمی ٹورنامنٹ کو بحران سے بچایا جا سکے

February 4, 2026

پاکستان اور قازقستان کے مابین وزیراعظم شہباز شریف اور صدر قاسم جومارت توکایووف کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد آٹھ اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے

February 4, 2026

پاکستان، چین اور خطائی شراکت داروں نے چار طرفہ عبوری ٹریفک معاہدے کے نفاذ کو حتمی شکل دینے کے لیے اہم اجلاس مکمل کیا۔ یہ معاہدہ سی پیک راہوں کے ذریعے گوادر بندرگاہ سے وسطی ایشیا تک تجارتی رابطے کو مؤثر بنائے گا

February 4, 2026

سروے کے مطابق شہری تجربات میں بدعنوانی کم، اسلام آباد میں شفافیت سب سے زیادہ اور نادرا بہترین ادارہ رہا۔ گزشتہ 20 سال میں عالمی رپورٹس سے صرف محدود بہتری دیکھنے کو ملی، جبکہ پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا اشاریہ اصل صورتحال واضح کرتا ہے

February 4, 2026

پاکستان اور قازقستان کے مابین 8 اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

پاکستان اور قازقستان کے مابین وزیراعظم شہباز شریف اور صدر قاسم جومارت توکایووف کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد آٹھ اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے
پاکستان اور قازقستان کے مابین وزیراعظم شہباز شریف اور صدر قاسم جومارت توکایووف کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد آٹھ اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ ٹرانزٹ ٹریڈ، ریلوے، توانائی، زراعت، اقوام متحدہ امن مشنز اور بحری تعاون پر محیط یہ معاہدے دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے جامع شراکت داری کے دور کا آغاز ہیں

پاکستان اور قازقستان نے تاریخی معاہدوں پر دستخط کیے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر توکایووف کے درمیان آٹھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے

February 4, 2026

پاکستان کی “وسطی ایشیا سے رابطہ” کی حکمت عملی نے آج ایک تاریخی عملی شکل اختیار کر لی، جب وزیراعظم محمد شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آٹھ اہم مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ یہ معاہدے تجارت، نقل و حمل، توانائی، سلامتی اور سفارتی شعبوں میں ایک جامع شراکت داری کا آغاز ہیں، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کی معاشی جغرافیہ بدلنے کا پوٹینشل رکھتے ہیں۔

تقریب میں دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ اور واضح کیا گیا کہ دونوں ممالک مشترکہ طور پر جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان اقتصادی اور نقل و حمل کے رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور چاق و چوبند دستے نے قازقستان کے صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

دستخط شدہ معاہدوں میں سب سے اہم ایک جامع ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ ہے، جو دونوں ممالک کے مابین سامان کی نقل و حمل کو تیز، محفوظ اور سستا بنانے کے لیے ایک تاریخی قدم ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان ریلوے اور قازقستان ریلوے کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے، جس کے تحت ریلوے انفراسٹرکچر کی جدید کاری، تکنیکی تعاون اور عملے کی باہمی تربیت کا راستہ ہموار ہوگا۔

زراعت کے شعبے میں دو اہم دستاویزات کا تبادلہ ہوا: پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتیں۔ یہ معاہدے زرعی مصنوعات کی بین الاقوامی معیارات کے مطابق محفوظ تجارت کو یقینی بنائیں گی اور زرعی برآمدات میں رکاوٹیں دور کریں گے۔ توانائی کے شعبے میں ایک اور اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جو کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبوں میں باہمی سرمایہ کاری، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور تکنیکی تعاون کے لیے فریم ورک فراہم کرتی ہے۔

سلامتی اور سفارتی تعاون کے حوالے سے دو اہم معاہدے طے پائے۔ پہلا، اقوام متحدہ کے امن دستوں کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت، جس کے تحت دونوں ممالک کے امن فوجیوں کی مشترکہ تربیت، تجربات کے تبادلے اور بین الاقوامی امن مشنز میں بہتر کوآرڈینیشن پر اتفاق ہوا۔ دوسرا، قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدہ، جو دونوں ممالک کے درمیان قانونی اور سفارتی عمل کو آسان بنائے گا۔ اس کے علاوہ میری ٹائم (بحری) شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے، جو بحری تجارت، بندرگاہوں کے انتظام اور سمندری سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گی۔

صدر قاسم جومارت توکایووف کے ہمراہ قازقستان کے سینئر وزراء اور سرکاری حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد موجود تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے موقع پر موجود اپنے کابینہ اراکین کا تعارف صدر قازقستان سے کروایا، جس سے دونوں طرف کی عملی ٹیموں کے درمیان براہ راست روابط استوار ہوئے۔

یہ دورہ اور معاہدے دونوں ممالک کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے لیے قازقستان وسطی ایشیا میں داخلے کا اہم دروازہ ہے، جبکہ قازقستان، ایک لینڈ لاکڈ ملک ہونے کے ناطے، پاکستان کے ذریعے بحیرہ عرب تک براہ راست رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ معاہدے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو وسطی ایشیائی ریاستوں سے جوڑنے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں، جو خطے میں تجارتی اور نقل و حمل کے نیٹ ورک کو یکسر تبدیل کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب کے بعد اپنے بیان میں کہا، “یہ معاہدے پاکستان اور قازقستان کے درمیان ایک نئے دور کی شروعات ہیں، جو تجارت، توانائی اور استحکام کی نئی شاہراہیں کھولیں گے۔” صدر توکایووف نے جواباً زور دیا، “قازقستان وسطی ایشیا میں پاکستان کا مستقل اور بھروسے مند شراکت دار ہے، اور ہم ایشیا کی ترقی و خوشحالی میں مشترکہ کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔”

متعلقہ مضامین

افغانستان کی اہم سیاسی جماعت حزب وحدت اسلامی سے محمد محقق کے حامی درجنوں ارکان نے اجتماعی استعفے دے دیے۔ اراکین نے پارٹی قیادت کی مرکزیت پسندی اور ہزارہ برادری سمیت مقامی نمائندگی کے فقدان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے

February 4, 2026

سی این این کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں چھوڑے گئے 3 لاکھ سے زائد امریکی ہتھیار ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کے ہاتھ لگے ہیں

February 4, 2026

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف کھیلنے سے پاکستان کے ممکنہ انکار نے آئی سی سی کو پریشان کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق آئی سی سی نے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو پی سی بی کے ساتھ ‘بیک چینل مذاکرات’ کی ذمہ داری سونپی ہے تاکہ عالمی ٹورنامنٹ کو بحران سے بچایا جا سکے

February 4, 2026

پاکستان، چین اور خطائی شراکت داروں نے چار طرفہ عبوری ٹریفک معاہدے کے نفاذ کو حتمی شکل دینے کے لیے اہم اجلاس مکمل کیا۔ یہ معاہدہ سی پیک راہوں کے ذریعے گوادر بندرگاہ سے وسطی ایشیا تک تجارتی رابطے کو مؤثر بنائے گا

February 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *