پاکستان کی “وسطی ایشیا سے رابطہ” کی حکمت عملی نے آج ایک تاریخی عملی شکل اختیار کر لی، جب وزیراعظم محمد شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آٹھ اہم مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ یہ معاہدے تجارت، نقل و حمل، توانائی، سلامتی اور سفارتی شعبوں میں ایک جامع شراکت داری کا آغاز ہیں، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کی معاشی جغرافیہ بدلنے کا پوٹینشل رکھتے ہیں۔
تقریب میں دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ اور واضح کیا گیا کہ دونوں ممالک مشترکہ طور پر جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان اقتصادی اور نقل و حمل کے رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور چاق و چوبند دستے نے قازقستان کے صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
دستخط شدہ معاہدوں میں سب سے اہم ایک جامع ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ ہے، جو دونوں ممالک کے مابین سامان کی نقل و حمل کو تیز، محفوظ اور سستا بنانے کے لیے ایک تاریخی قدم ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان ریلوے اور قازقستان ریلوے کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے، جس کے تحت ریلوے انفراسٹرکچر کی جدید کاری، تکنیکی تعاون اور عملے کی باہمی تربیت کا راستہ ہموار ہوگا۔
زراعت کے شعبے میں دو اہم دستاویزات کا تبادلہ ہوا: پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتیں۔ یہ معاہدے زرعی مصنوعات کی بین الاقوامی معیارات کے مطابق محفوظ تجارت کو یقینی بنائیں گی اور زرعی برآمدات میں رکاوٹیں دور کریں گے۔ توانائی کے شعبے میں ایک اور اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جو کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبوں میں باہمی سرمایہ کاری، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور تکنیکی تعاون کے لیے فریم ورک فراہم کرتی ہے۔
سلامتی اور سفارتی تعاون کے حوالے سے دو اہم معاہدے طے پائے۔ پہلا، اقوام متحدہ کے امن دستوں کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت، جس کے تحت دونوں ممالک کے امن فوجیوں کی مشترکہ تربیت، تجربات کے تبادلے اور بین الاقوامی امن مشنز میں بہتر کوآرڈینیشن پر اتفاق ہوا۔ دوسرا، قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدہ، جو دونوں ممالک کے درمیان قانونی اور سفارتی عمل کو آسان بنائے گا۔ اس کے علاوہ میری ٹائم (بحری) شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے، جو بحری تجارت، بندرگاہوں کے انتظام اور سمندری سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گی۔
صدر قاسم جومارت توکایووف کے ہمراہ قازقستان کے سینئر وزراء اور سرکاری حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد موجود تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے موقع پر موجود اپنے کابینہ اراکین کا تعارف صدر قازقستان سے کروایا، جس سے دونوں طرف کی عملی ٹیموں کے درمیان براہ راست روابط استوار ہوئے۔
یہ دورہ اور معاہدے دونوں ممالک کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے لیے قازقستان وسطی ایشیا میں داخلے کا اہم دروازہ ہے، جبکہ قازقستان، ایک لینڈ لاکڈ ملک ہونے کے ناطے، پاکستان کے ذریعے بحیرہ عرب تک براہ راست رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ معاہدے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو وسطی ایشیائی ریاستوں سے جوڑنے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں، جو خطے میں تجارتی اور نقل و حمل کے نیٹ ورک کو یکسر تبدیل کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب کے بعد اپنے بیان میں کہا، “یہ معاہدے پاکستان اور قازقستان کے درمیان ایک نئے دور کی شروعات ہیں، جو تجارت، توانائی اور استحکام کی نئی شاہراہیں کھولیں گے۔” صدر توکایووف نے جواباً زور دیا، “قازقستان وسطی ایشیا میں پاکستان کا مستقل اور بھروسے مند شراکت دار ہے، اور ہم ایشیا کی ترقی و خوشحالی میں مشترکہ کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔”