پاکستان نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی جانب سے 2026 کے لیے ملک کو ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ (سی پی سی) کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اسلام آباد نے اس رپورٹ کو یکطرفہ غیر متوازن اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام حقائق کے منافی اور امتیازی ہے۔
حکومتی اصلاحات
وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حال ہی میں کی گئی اہم قانون سازی اور انتظامی اقدامات کو نظر انداز کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق ‘نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق ایکٹ 2025’ کا نفاذ، پنجاب میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال کرنے کا قانون اور توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کی گئی سخت تحقیقاتی اصلاحات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے۔



دوہرے معیار پر سوالات
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کے لیے ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ، پارلیمنٹ میں مخصوص نشستیں اور تعلیمی اسکالرشپس کا نظام کامیابی سے جاری ہے۔ تاہم اس پیش رفت کے باوجود صرف پاکستان کو ہدف بنانا اور امریکی ‘اتحادی ممالک’ میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر خاموشی اختیار کرنا رپورٹ کی ساکھ کو شدید مشکوک بناتا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اس کا آئین تمام شہریوں کو بلا امتیاز مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔
حکومت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی بیرونی سیاسی دباؤ کے بجائے اپنے قوانین اور آئینی پاسداری کے ذریعے ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ یہ رپورٹ مبینہ طور پر حقائق کے بجائے مخصوص سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔