پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ’شہری آبادی پر بمباری‘ کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی شفاف اور قابلِ تصدیق تحقیقات ہونی چاہیے۔ تاہم سرحد پار انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو محض جارحیت قرار دینا خطے میں موجود خطرات کے مکمل تناظر کو نظرانداز کرنا ہے۔

February 22, 2026

پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج اور اس سے وابستہ گروہوں اور داعش کے سات دہشت گرد کیمپس اور ٹھکانوں کو نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔

February 22, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر آٹھ مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کا دائرہ صوبہ خوست، پکتیا، پکتیکا اور ننگرہار تک پھیلا ہوا بتایا جا رہا ہے۔ اسی دوران ارگون (پکتیا) میں بھی تازہ حملے کی اطلاع ملی ہے۔

February 22, 2026

سید سلمان گیلانی نے اپنی زندگی عشقِ رسول ﷺ کی نعت خوانی اور شاعری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

February 21, 2026

اسی تناظر میں ایک اور معاملے میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈین نژاد پاکستانی پی ایچ ڈی اسکالر سلمان مبینہ طور پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے اور اس وقت قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

February 21, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران معلوماتی محاذ بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جہاں بیانیے اور سوشل میڈیا مہمات کو سفارتی اور سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

February 21, 2026

افغانستان میں 7 دہشت گرد ٹھکانوں پر پاکستان کی فضائی کارروائی، افغان وزارتِ دفاع کی ’مناسب وقت‘ پر جواب کی دھمکی

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ’شہری آبادی پر بمباری‘ کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی شفاف اور قابلِ تصدیق تحقیقات ہونی چاہیے۔ تاہم سرحد پار انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو محض جارحیت قرار دینا خطے میں موجود خطرات کے مکمل تناظر کو نظرانداز کرنا ہے۔
سرحد پار 7 دہشت گرد ٹھکانوں پر پاکستان کی فضائی کارروائی، افغان وزارتِ دفاع کی ’مناسب وقت‘ پر جواب کی دھمکی

طالبان نے حملوں میں 20 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کر دیا جبکہ پاکستانی ذرائع نے 25 خوارج کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔

February 22, 2026

پاکستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے بعد افغانستان کی طالبان حکومت نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے ’مناسب وقت‘ پر جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ صورتحال نے پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

پاکستان کا مؤقف: ٹھوس شواہد پر مبنی ٹارگٹڈ اسٹرائیکس

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق حالیہ خودکش حملوں جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں کے واقعات شامل ہیں، کے بعد سکیورٹی اداروں کے پاس قابلِ اعتماد شواہد موجود تھے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود قیادت کی سرپرستی میں کی گئی۔

بیان کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج اور دولتِ اسلامیہ خراسان (داعش خراسان) سے وابستہ عناصر نے قبول کی۔ اسی تناظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کرتے ہوئے پاک افغان سرحدی علاقے میں سات دہشت گرد کیمپس اور ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مخصوص اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی، جس کا مقصد صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا تھا، نہ کہ شہری آبادی کو۔

افغان ردِعمل: خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام

افغانستان کی طالبان حکومت کی وزارتِ دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے شہری علاقوں میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے قومی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ افغانستان ’مناسب وقت‘ پر بھرپور جواب دے گا۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی پاکستان پر سرحدی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

ننگرہار میں ہلاکتوں کے دعوے

افغان حکام کے مطابق صوبہ ننگرہار کے ضلع بہسود میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا جہاں 17 سے 23 افراد کے ہلاک ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ طالبان کے مقامی عہدیدار امر قریشی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 11 بچے بھی شامل ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی صرف دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف تھی اور شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

پکتیکا میں مدرسے کو نشانہ بنانے کی اطلاعات

افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع برمل میں واقع بنوسی مدرسہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم رمضان کے باعث مدرسہ بند تھا اور جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں عمارت کے ایک حصے کو منہدم دکھایا گیا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق تمام اہداف دہشت گردوں کے کیمپس اور ٹھکانے تھے جو سرحد پار حملوں میں ملوث تھے۔

پاکستانی حکام کا ذبیح اللہ مجاہد کے دعوؤں پر جواب

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ’شہری آبادی پر بمباری‘ کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی شفاف اور قابلِ تصدیق تحقیقات ہونی چاہیے۔ تاہم سرحد پار انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو محض جارحیت قرار دینا خطے میں موجود خطرات کے مکمل تناظر کو نظرانداز کرنا ہے۔

پاکستان اس سے قبل بھی مشرقی افغانستان، خصوصاً ننگرہار اور پکتیکا میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے اپنے تحفظات دوطرفہ اور بین الاقوامی فورمز پر ریکارڈ کروا چکا ہے۔ افغان حکام سے بارہا مطالبہ کیا گیا کہ وہ دوحہ فریم ورک کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ڈھانچے کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائی کریں، تاہم سرحد پار نقل و حرکت اور ازسرِنو منظم ہونے کی اطلاعات بدستور کشیدگی کا سبب بن رہی ہیں۔

حالیہ خودکش حملہ، جس میں پاک فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہوئے اور جس کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی، اس خطرے کی فوری نوعیت کو واضح کرتا ہے۔ بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی اصول اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ اگر غیر ریاستی عناصر کسی ملک کی سرزمین سے حملے کریں اور میزبان ریاست انہیں روکنے میں ناکام رہے تو متاثرہ ریاست کو دفاعی اقدام کا حق حاصل ہوتا ہے۔

مزید برآں، ٹی ٹی پی ماضی میں شہری آبادی اور دشوار گزار سرحدی علاقوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان نظریاتی قربت نے عملی سطح پر امتیاز کو مزید پیچیدہ بنایا ہے، جس سے احتساب کا عمل دھندلا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں بلا ثبوت عمومی الزامات مسئلے کی جڑ — یعنی سرحد پار عسکریت پسند ڈھانچے — کو حل نہیں کرتے۔

پاکستان کی سکیورٹی پالیسی کسی کمزوری کی تلافی نہیں بلکہ مسلسل حملوں کا ردِعمل ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ پائیدار حل اسی میں ہے کہ ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں کا قابلِ تصدیق خاتمہ ہو اور مربوط سکیورٹی تعاون کو یقینی بنایا جائے، نہ کہ ایسے بیانات دیے جائیں جو مسلح گروہوں کی موجودگی کو پس منظر میں دھکیل دیں۔

پس منظر: بنوں حملہ اور سکیورٹی خدشات

واضح رہے کہ کل ہفتے کو بنوں میں خودکش حملے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہوئے تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب سکیورٹی فورسز شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کر رہی تھیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان عبوری حکومت کو بارہا کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، تاہم مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا۔

پاکستان کا مطالبہ اور عالمی برادری سے اپیل

پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور دہشت گرد عناصر کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرنے دے۔ ساتھ ہی عالمی برادری سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت طالبان حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادہ کرے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ خطے میں امن اولین ترجیح ہے، تاہم پاکستانی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت پاک افغان تعلقات میں ایک نئے تناؤ کی علامت ہے۔ اگر سفارتی سطح پر فوری رابطہ نہ ہوا تو سرحدی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ تاہم پاکستان واضح کر چکا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی اس کی قومی سلامتی کا ناگزیر تقاضا ہے۔

متعلقہ مضامین

پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج اور اس سے وابستہ گروہوں اور داعش کے سات دہشت گرد کیمپس اور ٹھکانوں کو نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔

February 22, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر آٹھ مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کا دائرہ صوبہ خوست، پکتیا، پکتیکا اور ننگرہار تک پھیلا ہوا بتایا جا رہا ہے۔ اسی دوران ارگون (پکتیا) میں بھی تازہ حملے کی اطلاع ملی ہے۔

February 22, 2026

سید سلمان گیلانی نے اپنی زندگی عشقِ رسول ﷺ کی نعت خوانی اور شاعری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

February 21, 2026

اسی تناظر میں ایک اور معاملے میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈین نژاد پاکستانی پی ایچ ڈی اسکالر سلمان مبینہ طور پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے اور اس وقت قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

February 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *