افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ اقوام عالم بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پاکستان نے اس حوالے سے متعدد بار افغانستان کی طالبان حکومت کو رپورٹ بھی کیا ہے اور احتجاج بھی کیا ہے لیکن اس کے باوجود افغانستان کی طالبان حکومت نے اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ دہشت گردوں کی پاکستان میں کاروائیوں میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا۔آخر کار پاکستان کو مجبور ہو کر دہشت گردوں کے خلاف افغانستان کے اندر کارروائیاں کی ہیں۔
پاکستان کی کامیاب کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ اسی دوران افغانستان نے عارضی جنگ بندی کی درخواست کی جس پر عارضی جنگ بندی میں دوحہ میں مذاکرات تک توسیع کر دی گئی تھی جبکہ پاک فوج کے سربراہ نے بھی افغانستان کو واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود دہشت گرد گروہوں کو لگام دے ۔ افغانستان میں جب سے طالبان کی حکومت برسراقتدار آئی ہے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے ۔ پاکستان کی ڈھلمل افغان پالیسی کی وجہ نے بھی دہشت گردوں کوپنپنے کا موقع ملا۔پاکستان کی ماضی کی افغان پالیسی کی وجہ سے افغان باشندوں کو جو ڈھیل ملی ہے اس کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں افغانستان کے شہریوں نے پاکستان کے شناختی کارڈز اور پاسپورٹس بنوائے ہیں۔ سابقہ فاٹا کی صورت حال تو ایسی تھی کہ وہاں کسی قسم کی کوئی پابندی ہی نہیں تھی۔
اسی لیے پاکستان کی حکومت نے غیر قانونی افغان مہاجرین کو فوری طور پر واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے انہیں کوئی مہلت نہیں دی جائے گی، کہا گیا ہے کہ صرف وہی افغان باشندے پاکستان میں رہ سکیں گے جن کے پاس درست ویزا ہوگا۔میڈیا کے مطابق وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گزشتہ دنوں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے نمائندے مزمل اسلم شریک ہوئے ۔ اجلاس میں وفاقی وصوبائی حکومتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے تمام صوبائی حکومتوں، وفاقی و صوبائی اداروں کو پاکستان میں غیر قانونی طور پر موجود افغان باشندوں کی جلد از جلد وطن واپسی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملے اور افغانوں کا ان حملوں میں ملوث ہونا تشویشناک ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پیاروں کی قربانیاں دینے والے پاکستان کے بہادر عوام ہم سے سوال کرتے ہیں کہ حکومت کب تک افغان پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھائے گی، افغانستان کے حملوں کو پسپا کرنے پر پوری قوم افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتی ہے.
ہماری بہادر افواج مادر وطن کا دفاع کرنا جانتی ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہائیوں سے مشکلات میں گھرے افغانستان کی پاکستان نے ہر مشکل وقت میں مدد کی، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا۔ وزیر اعظم نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں اور پاکستان میں مقیم افغانوں کے ان حملوں میں ملوث ہونے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور اعلیٰ حکومتی عہدیدار متعدد بار افغانستان کے دورے پر گئے اور افغان نگران حکومت کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے حوالے سے مذاکرات کیے ۔ 16 اکتوبر 2025 تک 14 لاکھ 77 ہزار 592 افغانوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے ۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ افغانستان کی جانب ایگزٹ پوائنٹس کی تعداد کو بڑھایا جا رہا ہے تا کہ افغانوں کی وطن واپسی سہل اور تیزی سے ممکن ہو سکے ۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر موجود افغان باشندوں کو پناہ دینا اور انہیں گیسٹ ہاؤسز میں قیام کی اجازت دینا قانوناً جرم ہے ، ایسے افغان باشندوں کی نشاندہی کی جارہی ہے ، پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے عمل میں عوام کو شراکت دار بنایا جائے گا اور کسی کو بھی افغانوں کو حکومت کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پناہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر فورم نے فیصلہ کیا کہ اجلاس میں پیش کردہ تمام سفارشات پرسختی سے عمل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے صوبوں کو مکمل تعاون کی درخواست کی۔
پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کی باتیں برسوں سے جاری ہیں لیکن اس مسئلے کو آج تک مکمل طور پر حل نہیں کیا جاسکا۔پاکستان میں قانونی اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی تعداد کے بارے میں گاہے بگاہے تخمینے آتے رہے ہیں۔ ان تخمینوں کے مطابق ایسے افغان باشندوں کی تعداد میں سے چالیس لاکھ کے قریب ہے ۔ ایسے میں اگر ستر، اسی ہزار کو واپس بھیجا گیا ہے تو یہ کوئی بڑی تعداد نہیں ہے ۔ پھر یہ بھی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں یا اگر موجود ہیں تو انھیں ظاہر نہیں کیا جا رہا کہ جن افغان باشندوں کو واپس بھیجا گیا ہے ان میں سے کتنے واپس آئے ہیں۔ اس لیے افغانستان کے باشندوں کو واپس بھیجنے کے لیے جو قوانین بنائے گئے ہیں ان پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے اور اگر متعلقہ محکموں اور اداروں کے افسران اور ملازمین ان قوانین پر عمل کرنے میں ست روی یا کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جانی چاہیے اور اس حوالے سے سخت سزاوں اور جرمانوں کا نفاذ کیا جانا چاہیے ۔
پاکستان کو بچانے کے لیے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ اگر کوئی صوبائی حکومت اس انتہائی اہم، نازک اور حساس معاملے پر دو عملی کا مظاہرہ کرتی ہے یا مزاحمت کرتی ہے تو اس حوالے سے بھی قومی اور صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کر کے وفاق کو یہ معاملہ براہ راست اپنے ہاتھ میں لے کر ایسے صوبوں میں افغان مہاجرین کی واپسی کا ٹارگٹ وفاقی اداروں کے سپرد کر دیا جائے ۔
حکومت پاکستان، طالبان حکومت پر شروع دن سے ہی ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کا الزام لگاتی رہی ہے اور پاکستانی حکام متعدد بار اس امر کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ افغان سرزمین پر بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں جہاں سے پاکستان پر منظم منصوبہ بندی کے تحت دہشت گرد حملے کئے جارہے ہیں جسکے نتیجے میں کئی فوجی افسران اور جوان شہید ہوچکے ہیں مگر طالبان حکومت نے پاکستان کے ان تحفظات پر کوئی توجہ نہ دی اور اس کشیدہ صورتحال میں طالبان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورہ بھارت کے دوران افغان سرزمین سے پاکستان پر کئے جانے والے دہشت گرد حملوں سے پاک فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی فوجی تصادم میں بدل گئی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان جس نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو کئی دہائیوں تک اپنی سرزمین پر پناہ دی اور طالبان قیادت کو افغانستان میں دوبارہ اقتدار تک لانے کی راہ ہموار کی، آج وہی طالبان حکومت پاکستان کو آنکھیں دکھاکر مودی کی پراکسی بنی ہوئی ہے. بھارت جو ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہے ایک عرصہ سے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے ۔
بھارت کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان کا مغربی محاذ کھلا رہے اور پاک فوج مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ جنگ میں مصروف رہے تاکہ بھارت موقع سے فائدہ اٹھاکر پاکستان کے خلاف مشرقی محاذ کھول کر معرکہ حق میں اپنی ذلت آمیز شکست کا بدلہ لے سکے ۔ اگر طالبان حکومت نے اپنی پرانی روش برقرار رکھی اور دشمن ملک بھارت کی پراکسی بن کر پاکستان پر دوبارہ حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو انہیں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ذلت آمیز شکست یاد رکھنی چاہئے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف پاکستان کی نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کی جنگ ہے ۔
اگر دنیا نے آج افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیاں روکنے میں سنجیدگی نہ دکھائی تو کل دہشت گردی کی یہ آگ انہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔
دیکھیں: مہمان نوازی سے مایوسی تک – طالبان کا انتہاپسند رویّہ