مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

یوناما کی رپورٹ یا طالبان کا پروپیگنڈا؟ افغان سرزمین پر فضائی حملوں کے دعوے زمینی حقائق سے منافی قرار

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن ( یوناما) کی حالیہ رپورٹ کو دفاعی ماہرین نے حقائق سے بعید اور جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، جس میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی کو نظرانداز کر کے یکطرفہ بیانیہ اپنایا گیا ہے
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن ( یوناما) کی حالیہ رپورٹ کو دفاعی ماہرین نے حقائق سے بعید اور جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، جس میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی کو نظرانداز کر کے یکطرفہ بیانیہ اپنایا گیا ہے

یوناما کی جانب سے افغان سرزمین پر مبینہ فضائی حملوں میں شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو زمینی حقائق کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشن دہشت گردوں کی شناخت کرنے کے بجائے طالبان انتظامیہ کے ترجمان کا نقشہ پیش کر رہا ہے

February 24, 2026

یوناما کی جانب سے افغانستان کے ننگرہار اور پکتیکا کے علاقوں میں ہونے والے مبینہ فضائی حملوں پر جاری کردہ رپورٹ کو ماہرین نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے یکطرفہ اور غیر مستند قرار دیا ہے۔ یوناما نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب ہونے والے ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 13 شہری ہلاک ہوئے، تاہم یہ رپورٹ مشن کی ساکھ پر کئی سوالات کھڑے کر رہی ہے۔

دفاعی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یوناما کی یہ رپورٹ زمینی حقائق سے مکمل طور پر منافی ہے۔ رپورٹ میں ان دہشت گرد گروہوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا جو ان علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور سرحد پار دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہیں۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ یوناما کے پاس ایسا کون سا نظام ہے جس کے ذریعے وہ دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردوں اور شہریوں کے درمیان تمیز کرتا ہے؟ یا پھر یہ ادارہ محض طالبان کے ترجمان کے طور پر کام کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یوناما کا یہ طریقہ کار کہ وہ طالبان کے فراہم کردہ من گھڑت اعداد و شمار کو عالمی رپورٹ کا حصہ بنا دے، اس کے غیر جانبدارانہ کردار کو مشکوک بناتا ہے۔ پکتیکا میں جن مقامات کو یوناما نے مدرسہ یا مسجد قرار دیا ہے، وہاں دہشت گرد عناصر کی موجودگی اور ان کی جانب سے سویلین ڈھانچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا ایک کھلی حقیقت ہے، جسے رپورٹ میں دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔

ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ بین الاقوامی اداروں کو ایسی جانبدارانہ رپورٹنگ سے گریز کرنا چاہیے جو دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی کوششوں کو کمزور کرے۔ یوناما کی رپورٹ میں ان وجوہات کا ذکر نہ ہونا، جن کی بنا پر یہ کاروائیاں ناگزیر ہوتی ہیں، ثابت کرتا ہے کہ یہ رپورٹ حقیقت پر مبنی ہونے کے بجائے ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کو تقویت دینے کی کوشش ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں غیر شمولیتی اور جبر پر مبنی نظام کی موجودگی میں عالمی اداروں کا یکطرفہ بیانیہ خطے کے استحکام کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی ادارے طالبان کے بیانیے کی تشہیر کرنے کے بجائے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور سچائی کو ترجیح دیں۔

دیکھیے: افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے: ڈاکٹر ابراہیم المراشی

متعلقہ مضامین

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

November 4, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا ردعمل سامنے آگیا۔

November 4, 2026

نیب اور ایف آئی اے نے پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں پر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اسعد محمود کے خلاف تحقیقات تیز کر دی ہیں۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *