وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے پنجاب میں جرائم میں 80 فیصد کمی کے دعوؤں کے برعکس سرکاری طور پر جاری ہونے والے اعداد و شمار اس سے مختلف اعداد و شمار بتاتے ہیں۔ جیو فیکٹ چیک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں مجموعی جرائم میں محض دو فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، جو مریم نواز کے دعوے سے بہت کم ہے۔
تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں قتل کے واقعات گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں اٹھارہ اعشاریہ چھ فیصد کم ہوئے ہیں۔ اجتماعی زیادتی کے مقدمات میں چوالیس فیصد کمی نوٹ کی گئی ہے۔ ڈکیتی اور چھینا جھپٹی کے واقعات میں بیالیس فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ گاڑیاں چھیننے کے مقدمات میں چالیس فیصد کمی درج کی گئی ہے۔
تاہم کچھ جرائم میں اضافے کے رجحانات بھی سامنے آئے ہیں۔ خواتین کے اغواء یا گمشدگی کے واقعات میں نو فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منشیات کے مقدمات میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مجموعی طور پر رجسٹر ہونے والے جرائم کے زمروں میں بھی اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ جائیداد کے خلاف جرائم میں اکیس فیصد کمی ہوئی ہے۔ تاہم، افراد کے خلاف جرائم میں چھ فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مقامی و خصوصی قوانین کی خلاف ورزی کے مقدمات میں ساٹھ فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ پولیس کے اقدامات اور سیف سٹیز پروجیکٹ کے تحت شہریوں کی حفاظت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام تھانوں میں جرائم کی مفت رجسٹریشن کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
تاہم، اعداد و شمار کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے دعوے میں نمایاں مبالغہ پایا جاتا ہے۔ مجموعی جرائم میں محض اڑھائی فیصد کے قریب کمی کا ریکارڈ، اسی فیصد کے دعوے سے کہیں کم ہے۔
یہ صورتحال سرکاری دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان موجود فرق کو واضح کرتی ہے، جس سے شفافیت اور معلومات کی درستگی کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ شہریوں اور ماہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت عوامی بیان بازی اور حقیقی کارکردگی کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرے۔
دیکھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی پنجاب اسمبلی آمد پر ہنگامے کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل