“قومی سلامتی مذاق نہیں”، صارفین کا سخت ردعمل
اسلام آباد: حالیہ سیکیورٹی آپریشن پر صحافی وجاہت خان کے طنزیہ تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے ان کے اندازِ گفتگو کو غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کا کہنا ہے کہ پیچیدہ قومی سلامتی کے معاملات کو محض ایک جملے کے طنز یا غیر مہذب زبان تک محدود کرنا صحافتی معیار کے منافی ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ “جب اہم سیکیورٹی معاملات زیر بحث ہوں تو غیر اخلاقی الفاظ کسی بھی تجزیے کی جگہ نہیں لے سکتے”، جبکہ دیگر صارفین نے بھی اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا۔
“گالم گلوچ کو تجزیہ کہنا افسوسناک ہے”
متعدد صارفین نے وجاہت خان کے تبصرے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دلیل کی جگہ گالم گلوچ یا طنز کو ترجیح دینا دراصل تجزیے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک صارف کے مطابق اگر کسی سنجیدہ معاملے پر گفتگو صرف ایک طنزیہ جملے تک محدود ہو تو مسئلہ آپریشن میں نہیں بلکہ تجزیہ کرنے والے کی گہرائی میں ہوتا ہے۔
“یہ صحافت نہیں، محض پرفارمنس ہے”
کچھ صارفین نے اسے صحافت کے بجائے “پرفارمنس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر تبصرہ صرف مذاق اور تمسخر پر مبنی ہو اور اس میں کوئی ٹھوس دلیل موجود نہ ہو تو وہ عوام کو آگاہ کرنے کے بجائے محض توجہ حاصل کرنے کی کوشش بن جاتا ہے۔
قومی سلامتی پر ذمہ دارانہ گفتگو کا مطالبہ
سوشل میڈیا پر جاری بحث میں صارفین نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سلامتی جیسے حساس موضوعات پر سنجیدہ، ذمہ دارانہ اور مدلل گفتگو ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں جب خطے میں کشیدگی اور سیکیورٹی چیلنجز بڑھ رہے ہیں، ایسے میں غیر سنجیدہ بیانیہ عوامی رائے کو متاثر کر سکتا ہے۔
بیانیے کی جنگ یا آزادیٔ اظہار؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دے رہا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں اظہارِ رائے کی حدود کیا ہونی چاہئیں اور کیا طنزیہ یا سخت زبان میں کی گئی تنقید کو صحافتی دائرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں جہاں اطلاعاتی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے، وہاں ہر بیان اور ردعمل نہ صرف عوامی رائے بلکہ ریاستی بیانیے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
دیکھئیے:مذہبی مقدسات کی توہین اور فکری گراوٹ: وجاہت سعید کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ