امریکہ نے 2021 کے بعد امداد کے نام پر طالبان کو 6 ارب ڈالرز دیے؛ افغانستان انٹرنیشنل بینک کا دعویٰ

امریکہ نے 2021 کے بعد امداد کے نام پر طالبان کو 6 ارب ڈالرز دیے؛ افغانستان انٹرنیشنل بینک کا دعویٰ

تاہم تازہ جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رقم عام افغان شہریوں کی مدد کے بجائے طالبان کی مالی طاقت بڑھانے میں استعمال ہوئی، اور اسی طرح بدعنوانی، فضول خرچی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پرانے پیٹرن کو دہرا دیا گیا۔

جماعت الاحرار کی افغانستان میں عوامی تقریب؛ پاکستان کے مؤقف کی تصدیق ہو گئی

جماعت الاحرار کی افغانستان میں عوامی تقریب؛ پاکستان کے مؤقف کی تصدیق ہو گئی

پاکستانی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور پشاور میں تازہ خودکش بم دھماکوں کے پیچھے جماعت الاحرار کے دہشت گرد شامل تھے، اور افغان سرزمین کا استعمال پاکستان کے لیے مسلسل سیکورٹی چیلنج بنا ہوا ہے۔

پاکستان نے عالمی اداروں کے کہنے پر افغانستان کو امدادی سامان کی فراہمی کیلئے راستے کھولے؛ دفتر خارجہ

ترجمان کے مطابق سری لنکا کے لیے بھارتی پرواز کی کلیئرنس میں اصل تاخیر بھارت کی جانب سے ہوئی کیونکہ پاکستان نے تمام دستاویزات بروقت فراہم کر دی تھیں، جبکہ کلیئرنس بھارت نے خود 60 سے 70 گھنٹے بعد جاری کی۔

ترجمان کے مطابق سری لنکا کے لیے بھارتی پرواز کی کلیئرنس میں اصل تاخیر بھارت کی جانب سے ہوئی کیونکہ پاکستان نے تمام دستاویزات بروقت فراہم کر دی تھیں، جبکہ کلیئرنس بھارت نے خود 60 سے 70 گھنٹے بعد جاری کی۔

ذبیح اللہ مجاہد کا بیان مسترد؛ پاکستان نے تجارتی راستوں کی بحالی کو سکیورٹی سے مشروط کر دیا

ذبیح اللہ مجاہد کا بیان مسترد؛ پاکستان نے تجارتی راستوں کی بحالی کو سکیورٹی سے مشروط کر دیا

پاکستانی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجارت کی بحالی کے لیے افغان حکومت کو ’’اعتماد سازی کے مؤثر اقدامات‘‘ یقینی بنانا ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اور تاجروں کی حفاظت اور مفادات محفوظ رہیں۔

دو دہائیوں میں 148 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں استحکام نہ آیا، سگار کی رپورٹ

امریکی خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان (SIGAR) کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے دو دہائیوں میں افغانستان میں قیامِ امن اور ترقی کے لیے 148 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے، لیکن بدانتظامی، بدعنوانی اور ناقص نگرانی کے باعث زیادہ تر اقدامات ناکام رہے

سگار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے دو دہائیوں میں افغانستان میں قیامِ امن اور ترقی کے لیے 148 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے، لیکن بدانتظامی، بدعنوانی اور ناقص نگرانی کے باعث زیادہ تر اقدامات ناکام رہے