وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں چین نے امریکہ ایران امن مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کی ہے۔

June 25, 2026

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے پاک کشمیر رشتے کو ناقابل تنسیخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی آڑ میں اداروں کے خلاف مہم چلائی گئی، غداری پر سخت سزا ہونی چاہیے۔

June 25, 2026

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن غضب للحق کی عسکری حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے اسے کامیابی قرار دیا ہے۔

June 24, 2026

معروف برازیلی صحافی پیپے ایسکوبار کا دعویٰ ہے کہ موساد نے سوئٹزرلینڈ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر پر حملے کا مبینہ منصوبہ بنایا، جسے پاکستانی انٹیلی جنس نے بروقت ناکام بنا دیا۔

June 24, 2026

افغانستان فریڈم فرنٹ نے صوبہ نورستان کے ضلع وایگل میں طالبان کے ٹھکانے پر رات گئے اچانک گوریلا حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروائی میں طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔

June 24, 2026

خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں سی ٹی ڈی اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران 6 انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک جبکہ اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔

June 24, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کا بیان مسترد؛ پاکستان نے تجارتی راستوں کی بحالی کو سکیورٹی سے مشروط کر دیا

پاکستانی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجارت کی بحالی کے لیے افغان حکومت کو ’’اعتماد سازی کے مؤثر اقدامات‘‘ یقینی بنانا ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اور تاجروں کی حفاظت اور مفادات محفوظ رہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کا بیان مسترد؛ پاکستان نے تجارتی راستوں کی بحالی کو سکیورٹی سے مشروط کر دیا

ذرائع کے مطابق پاکستان علاقائی تجارت کے فروغ کا خواہاں ہے لیکن ’’قابل اعتماد سیکورٹی تعاون‘‘ کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔

December 4, 2025

افغان حکام نے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ تجارتی راستے کھولنے کے معاملے پر اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ کے راستوں کو ’’غیر قانونی‘‘ طور پر اور سیاسی دباؤ کے طور پر بند کیا، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو نقصان پہنچا۔

امارتِ اسلامی افغانستان کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اپنی ضروریات کئی ممالک سے پوری کر رہا ہے، اس لیے اب پاکستان کے ساتھ تجارتی راستے اسی وقت دوبارہ کھولے جائیں گے جب اسلام آباد سے اس بات کی ’’مضبوط یقین دہانی‘‘ مل جائے کہ مستقبل میں یہ راستے سیاسی دباؤ، غیر قانونی پابندی یا کسی بھی قسم کے دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

افغان بیان کے مطابق راستوں کی بندش سے تاجروں کے حقوق کو نقصان پہنچا اور ’’باوقار تجارت‘‘ متاثر ہوئی۔ طالبان حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی پالیسی درکار ہے جو دونوں جانب کے تاجروں اور عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی اور تجارتی گزرگاہوں کے حوالے سے پاکستان کے فیصلے ’’قومی سلامتی اور قانونی ضابطوں‘‘ کے مطابق ہوتے ہیں، اور یہ کہنا درست نہیں کہ راستے کسی سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیے گئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے متعدد بار افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی سرزمین دہشت گرد گروہوں خصوصاً ٹی ٹی پی کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ حکام کے مطابق سرحدی بندشیں تب کی گئیں جب دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے بڑھتے واقعات کے سبب اضافی حفاظتی اقدامات ضروری ہوئے۔

پاکستانی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجارت کی بحالی کے لیے افغان حکومت کو ’’اعتماد سازی کے مؤثر اقدامات‘‘ یقینی بنانا ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اور تاجروں کی حفاظت اور مفادات محفوظ رہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان علاقائی تجارت کے فروغ کا خواہاں ہے لیکن ’’قابل اعتماد سیکورٹی تعاون‘‘ کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔

دیکھیں: دو دہائیوں میں 148 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں استحکام نہ آیا، سگار کی رپورٹ

متعلقہ مضامین

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں چین نے امریکہ ایران امن مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کی ہے۔

June 25, 2026

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے پاک کشمیر رشتے کو ناقابل تنسیخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی آڑ میں اداروں کے خلاف مہم چلائی گئی، غداری پر سخت سزا ہونی چاہیے۔

June 25, 2026

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن غضب للحق کی عسکری حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے اسے کامیابی قرار دیا ہے۔

June 24, 2026

معروف برازیلی صحافی پیپے ایسکوبار کا دعویٰ ہے کہ موساد نے سوئٹزرلینڈ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر پر حملے کا مبینہ منصوبہ بنایا، جسے پاکستانی انٹیلی جنس نے بروقت ناکام بنا دیا۔

June 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *