امارتِ اسلامی افغانستان میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں تیز

امارتِ اسلامی افغانستان میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں تیز

افغانستان میں طالبان حکومت کا سب سے بڑا چیلنج داخلی اتحاد اور عالمی قبولیت ہے۔ ملا ہیبت اللہ کی سخت گیر پالیسیوں نے نہ صرف عالمی دباؤ بڑھایا بلکہ طالبان کے اندر بھی اختلافات کو ہوا دی۔ اگر قیادت میں تبدیلی عمل میں آتی ہے تو یہ طالبان کے لیے ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ ہوگا، جس کا مقصد ممکنہ طور پر افغانستان کو سفارتی تنہائی سے نکالنا اور نظامِ حکومت کو زیادہ قابلِ عمل بنانا ہو سکتا ہے۔

خوف یا کچھ اور؟ ہیبت اللہ اخوندزادہ تک رسائی محدود کر دی گئی، 7گورنروں کے ذریعے حکومت چلانے کا فیصلہ

خوف یا کچھ اور؟ ہیبت اللہ اخوندزادہ تک رسائی محدود کر دی گئی، 7گورنروں کے ذریعے حکومت چلانے کا فیصلہ

جنوبی زون کا سربراہ گورنر قندھار ملا محمد علی حنفی المعروف ملا شیریں ہیں، جس میں قندھار، ہلمند، ارزگان، زابل اور نیمروز شامل کیے گئے ہیں۔ شمال مشرقی زون کی ذمہ داری گورنر قندوز ملا محمد خان دعوت کے سپرد کی گئی ہے، جس میں قندوز، تخار، بغلان اور بدخشان شامل ہیں اور یہ علاقہ تاجکستان اور چین کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔

طالبان میں مفادات،لوٹ مار اور طاقت کی کشمکش۔۔۔۔ قسط اول 

طالبان کی اندرونی سیاست میں مفادات، لوٹ مار اور طاقت کی کشمکش بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جہاں قیادت کی اصل طاقت ذاتی مسلح گروہوں اور مالی وسائل سے جڑی رہی ہے۔ ملا ہیبت اللہ کے تقرر کے بعد یہ اندرونی توازن مزید واضح ہوا، جو مختلف دھڑوں کے درمیان اثر و رسوخ کی مسلسل جدوجہد کو نمایاں کرتا ہے

طالبان کی اندرونی سیاست میں مفادات، لوٹ مار اور طاقت کی کشمکش بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جہاں قیادت کی اصل طاقت ذاتی مسلح گروہوں اور مالی وسائل سے جڑی رہی ہے۔ ملا ہیبت اللہ کے تقرر کے بعد یہ اندرونی توازن مزید واضح ہوا، جو مختلف دھڑوں کے درمیان اثر و رسوخ کی مسلسل جدوجہد کو نمایاں کرتا ہے

ترک رپورٹ 2025: افغانستان عالمی منشیات کا مرکز قرار

دوہزار پچس کی ترک منشیات رپورٹ نے افغانستان کو عالمی منشیات تجارت کا مرکز قرار دیا ہے، جہاں افیون کے ساتھ ساتھ مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار اور اسمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے

دوہزار پچس کی ترک منشیات رپورٹ نے افغانستان کو عالمی منشیات تجارت کا مرکز قرار دیا ہے، جہاں افیون کے ساتھ ساتھ مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار اور اسمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے

طالبان حکومت نے بجٹ کا 88 فیصد غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کر دیا

افغان طالبان حکومت نے بجٹ کا 88 فیصد حصہ غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کر دیا، جس میں فوجی، سکیورٹی اور انتظامی اخراجات شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ترقیاتی بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 82 فیصد کم ہو کر صرف 24 ارب افغانی رہ گیا

افغان طالبان حکومت نے بجٹ کا 88 فیصد حصہ غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کر دیا، جس میں فوجی، سکیورٹی اور انتظامی اخراجات شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ترقیاتی بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 82 فیصد کم ہو کر صرف 24 ارب افغانی رہ گیا