پاک افغان سرحد پر ایک بار پھر شدید جھڑپیں، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات

نشریاتی ادارے پی ٹی وی کے مطابق منگل کی شام افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے ضلع کرم میں شدید فائرنگ کی
افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورک بے نقاب، پاکستان کا جوابی اقدام ناگزیر

اس پس منظر میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ اگر افغان انتظامیہ ان گروہوں کو اپنے علاقے سے کچلنے میں ناکام رہے تو پاکستان کو اپنی سرحدی حفاظت کے لیے لازم اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغان حکومت سے عملی اقدامات کا مطالبہ کردیا

پاکستان نے افغانستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سرحدی کشیدگی اتفاقاً نہیں ہوئی بلکہ پڑوسی ملک جاری دہشت گردی کا نتیجہ ہے
پاک امریکا تعلقات اور پاک افغان سرحدی کشیدگی پر چین کا مؤقف سامنے آگیا

ہمیں پاکستانی حکام نے یقین دلایا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تجارتی روابط سے چین کے مفادات اور مشترکہ منصوبے متاثر نہیں ہونگے؛ چینی وزارتِ خارجہ
ذبیح اللہ مجاہد کے پاکستان کے اندرونی معاملات پر بیان نے سیاسی ہلچل مچا دی

ٹی ایل پی احتجاج پر طالبان ترجمان کی تنقید، اسلام آباد کا سخت ردعمل
افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف بے دریغ استعمال اور سکیورٹی مسائل

افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہ تسلسل کے ساتھ پاکستان کے خلاف منظم کارروائیوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ واضح رہے کہ ان دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ مالی مدد حاصل ہے
امید ہے کہ ایک دن افغانستان پر حقیقی عوامی نمائندہ حکمران حکومت کریں گے؛ پاکستانی وزارت خارجہ

وزارتِ خارجہ پاکستان نے گیارہ، بارہ اکتوبر کی شب پاک۔ افغان سرحد پر کی گئی بلااشتعال کارروائیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا
ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے کا پہلا خودکش بمبار افغان شہری نکلا

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے کی ذمہ داری تحفظِ امارتِ اسلامیہ نامی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے نئے دھڑے نے قبول کی ہے۔
پاکستان نے گزشتہ رات 200 طالبان فوجیوں اور خوارج کو ہلاک کیا، 21 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا؛ آئی ایس پی آر

پاک فوج نے قوم کے نام پیغام میں اپنےعزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک کی حدود، شہریوں کی حفاظت اور ریاستی خودمختاری کے دفاع میں ہر ممکن اقدام اٹھاتی رہے گی۔
الزامات نہیں ثبوت – کابل کو الزام تراشی اور جارحیت کی بجائے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہو گی

پاکستان بارہا شواہد کے ساتھ دنیا کے سامنے یہ موقف پیش کر چکا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر گروہ افغان سرزمین سے منظم حملے کرتے ہیں۔ اگر کابل واقعی اپنی سرزمین پر کنٹرول رکھتا ہے، تو پھر ان گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں کیوں برقرار ہیں؟