پاکستان نے 13 عالمی ممالک کی جانب سے دو ریاستی حل کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

September 9, 2026

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔

September 9, 2026

ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹانک کے مین میڈیسن اسٹور میں سرکاری معائنے کے دوران سنگین بے ضابطگیاں سامنے آنے پر اسٹور کیپر معطل، 3 روز میں تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی گئی۔

September 8, 2026

دخشاں کے ضلع کوہستان راغ میں طالبان کے سکیورٹی کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ ہوا، جبکہ زیبک میں اے ایف ایف نے 4 طالبان اہلکار ہلاک اور 7 زخمی کرنے کا دعویٰ کیا۔

September 8, 2026

ایڈم وائن اسٹائن کے مطابق پاکستان اب خلیجی دفاعی تعاون، امریکا ایران رابطوں اور معاشی امکانات کے باعث اہم علاقائی شراکت دار بن رہا ہے۔

September 8, 2026

جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے قبائلی رہنما ملک نائب محمد محسود کو قتل کردیا۔ حملہ آور پہاڑی علاقے کی جانب فرار ہوگئے۔

September 8, 2026

پاکستان نے گزشتہ رات 200 طالبان فوجیوں اور خوارج کو ہلاک کیا، 21 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا؛ آئی ایس پی آر

پاک فوج نے قوم کے نام پیغام میں اپنےعزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک کی حدود، شہریوں کی حفاظت اور ریاستی خودمختاری کے دفاع میں ہر ممکن اقدام اٹھاتی رہے گی۔
پاکستان نے گزشتہ رات 200 طالبان فوجیوں اور خوارج کو ہلاک کیا، 21 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا؛ آئی ایس پی آر

معتبر انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق دو سو (200) سے زائد طالبان اور ان کی سرپرستی میں پلنے والے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

October 12, 2025

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اعلان کیا ہے کہ 11/12 اکتوبر کی رات کو پاک افغان طویل سرحد کے بڑے علاقے پر افغان طالبان اور مبینہ طور پر بھارتی حمایت یافتہ گروپ فتنۃ الخوارج نے بلا اشتعال حملہ کیا۔ فوج کے مطابق یہ حملے سرحدی علاقوں کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے اور دہشت گردی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ناپاک سازش کا حصہ تھے۔ ان حملوں کا ایک مقصد ٹی ٹی پی کی تشکیلوں کو سرحدیں پار کروانا تھا۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہماری افواج نے حق دفاع کے تحت تمام سرحدی سیکشنز پر متحرک ہو کر ان حملوں کو فیصلہ کن انداز میں پسپا کر دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ درست نشانہ بازی، فضائی و زمینی مہارت اور محدود پیمانے کی جسمانی چھاپے طالبان کے کیمپوں، چوکیوں، تربیتی مراکز اور سپورٹ نیٹ ورکس کے خلاف کیے گئے، جن کے مبینہ طور پر فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہند اور داعش/آئی ایس کے پی سے روابط تھے۔

فوج کا مزید کہنا تھا کہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم رکھنے اور شہریوں کی حفاظت کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔

حاصل شدہ نتائج: چوکیوں کی تباہی، عارضی قبضے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی تباہی

پاک فوج نے دعویٰ کیا کہ سرحد کے متعدد مقامات پر طالبان کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ بیان کے مطابق افغان سرحد پار 21 چوکیوں پر عارضی طور پر قبضہ قائم کیا گیا جبکہ متعدد تربیتی کیمپوں کو غیر فعال کردیا گیا جن کا مقصد پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری تھی۔ فوج نے کہا کہ طالبان پوسٹس، کیمپس، ہیڈکوارٹرز اور سپورٹ نیٹ ورکس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

شہادتیں اور ہلاکتوں کے دعوے

بیان کے مطابق رات بھر کی جھڑپوں میں 23 بہادر پاکستانی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 29 زخمی ہوئے۔ معتبر انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق دو سو (200) سے زائد طالبان اور ان کی سرپرستی میں پلنے والے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

آئی ایس پی آر نے بیان میں قومی سرحدوں، عوام کی جان و مال اور ملکی سالمیت کے دفاع کے عزم کو دہرایا گیا۔ کہا گیا کہ عوامی خواہش کے مطابق پاکستان بات چیت اور تعمیری سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے مگر افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال ناقابلِ برداشت ہے۔

پاک فوج نے واضح کیا کہ اگر ان خطرناک سرحدی واقعوں میں ملوث عناصر اور ان کے پشت پناہ گروہ فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے ختم نہ کیے گئے تو پاکستان اپنی عوام کے دفاع کے لیے مستقل طور پر دہشت گرد اہداف کو غیر مؤثر بناتی رہے گی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ جارحیت افغان وزیرِ خارجہ کے بھارت کے دورے کے دوران ہوئی، جس پر پاکستان نے تشویش ظاہر کی۔ اس موقع پر کابل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین سے فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہند اور داعش/آئی ایس کے پی جیسے گروہوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری اور قابلِ توثیق اقدامات کرے، بصورتِ دیگر پاکستان اپنے دفاع میں مستقل کارروائیاں جاری رکھے گا۔

پاکستان نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت بعض شدت پسند گروہوں کو سہولت فراہم کرتی آئی ہے اور اگر وہ بھارت کے ساتھ مل کر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی تو پاکستان اور اس کی عوام چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

علاقائی امن و سلامتی کے حوالے سے تجویز اور اپیل

فوج نے علاقائی امن و استحکام کے مفاد میں طالبان حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کی اپیل کی، جن میں افغان سرزمین سے دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ، افغان سرحدی کنٹرول کو مضبوط بنانا اور مشترکہ سیکیورٹی مکینزم کے قیام کے حوالے سے بات چیت شامل ہوگی۔ بیان میں زور دیا گیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

پاک فوج نے قوم کے نام پیغام میں اپنےعزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک کی حدود، شہریوں کی حفاظت اور ریاستی خودمختاری کے دفاع میں ہر ممکن اقدام اٹھاتی رہے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ حملوں کے ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کر کے انہیں سرِعام لایا جائے گا اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

دیکھیں: سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 5 خوارج جہنم واصل

متعلقہ مضامین

پاکستان نے 13 عالمی ممالک کی جانب سے دو ریاستی حل کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

September 9, 2026

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔

September 9, 2026

ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹانک کے مین میڈیسن اسٹور میں سرکاری معائنے کے دوران سنگین بے ضابطگیاں سامنے آنے پر اسٹور کیپر معطل، 3 روز میں تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی گئی۔

September 8, 2026

دخشاں کے ضلع کوہستان راغ میں طالبان کے سکیورٹی کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ ہوا، جبکہ زیبک میں اے ایف ایف نے 4 طالبان اہلکار ہلاک اور 7 زخمی کرنے کا دعویٰ کیا۔

September 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *