استاد محمد محقق سے منسوب نجی ٹی وی چینل راہِ فردا کی نشریات طالبان حکومت کی جانب سے بند کر دی گئی ہیں، جبکہ چینل کے دفاتر سیل کر کے بعض جائیدادوں پر قبضے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب محمد محقق کے حالیہ بیانات، جن میں انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت اور خطے میں تشدد کے خاتمے پر زور دیا تھا، سوشل میڈیا پر زیر بحث آئے۔
ذرائع کے مطابق یکم مارچ کو طالبان فورسز نے کابل میں واقع راہِ فردا ٹی وی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا، عملے کو حراست میں لینے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نشریاتی آلات اپنی تحویل میں لے لیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دفتر کی عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور چینل کی تمام نشریاتی سرگرمیاں معطل ہیں۔
راہِ فردا ٹی وی 2006 میں قائم کیا گیا تھا اور یہ چینل افغانستان کی سیاسی صورتحال، سماجی مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی پروگرام نشر کرنے کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چینل کی بندش کو افغانستان میں آزادیٔ اظہار کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب محمد محقق کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق محقق نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی تھی اور خطے میں امن و استحکام پر زور دیا تھا، تاہم بعض حلقوں نے اسے سیاسی رنگ دے کر کارروائی کا جواز بنایا۔
طالبان حکام کی جانب سے اس کارروائی پر تاحال باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں تنقیدی آوازوں اور آزاد میڈیا پر دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور صحافتی تنظیموں نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا اداروں کے تحفظ اور اظہارِ رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف افغانستان کی داخلی سیاست بلکہ خطے کی سفارتی فضا پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب علاقائی سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔