ذرائع کے مطابق یکم مارچ کو طالبان فورسز نے کابل میں واقع راہِ فردا ٹی وی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا، عملے کو حراست میں لینے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نشریاتی آلات اپنی تحویل میں لے لیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دفتر کی عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور چینل کی تمام نشریاتی سرگرمیاں معطل ہیں۔

March 1, 2026

1981 میں ایک بم حملے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ اسی سال صدر منتخب ہوئے۔ 1980 سے جاری ایران عراق جنگ نے ان کے دورِ صدارت کو شکل دی۔ اگرچہ اس وقت زیادہ اختیارات وزیرِ اعظم کے پاس تھے، مگر خامنہ ای نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے اور دفاعی و سلامتی معاملات میں اپنی گرفت مضبوط کی۔

March 1, 2026

علی خامنہ ای 17 جولائی 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے، جو ایران کا ایک مقدس شہر ہے اور امام رضا کے مزار کی وجہ سے معروف ہے۔ ان کے والد، آیت اللہ جواد خامنہ ای، ایک آذربائیجانی-ایرانی شیعہ عالمِ دین تھے جو سخت مذہبی نظم و ضبط کے قائل تھے۔ ان کا خاندان نہایت سادہ اور قناعت پسند زندگی گزارتا تھا۔

March 1, 2026

دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اس موقع پر ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کے خلاف اصولی موقف اپنانے پر پاکستان، چین اور روس کا شکریہ ادا کیا ہے۔

March 1, 2026

ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سفارتی اور اخلاقی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی ایران کے خلاف حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

March 1, 2026

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ “یہ عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا” اور ایران اپنی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ ذمہ داران کو پچھتاوے پر مجبور کرے گا۔ ان کے مطابق خامنہ ای نے 37 برس حکمت و بصیرت سے قیادت کی اور ان کی ہلاکت کے بعد ملک ایک مشکل دور سے گزرے گا۔

March 1, 2026

پاکستان میں دہشت گردی کی مذمت کی سزا؟ کابل میں استاد محمد محقق کا ٹی وی بند، جائیدادوں پر قبضے کی اطلاعات

ذرائع کے مطابق یکم مارچ کو طالبان فورسز نے کابل میں واقع راہِ فردا ٹی وی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا، عملے کو حراست میں لینے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نشریاتی آلات اپنی تحویل میں لے لیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دفتر کی عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور چینل کی تمام نشریاتی سرگرمیاں معطل ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کی مذمت کی سزا؟ کابل میں استاد محمد محقق کا ٹی وی بند، جائیدادوں پر قبضے کی اطلاعات

راہِ فردا ٹی وی 2006 میں قائم کیا گیا تھا اور یہ چینل افغانستان کی سیاسی صورتحال، سماجی مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی پروگرام نشر کرنے کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔

March 1, 2026

استاد محمد محقق سے منسوب نجی ٹی وی چینل راہِ فردا کی نشریات طالبان حکومت کی جانب سے بند کر دی گئی ہیں، جبکہ چینل کے دفاتر سیل کر کے بعض جائیدادوں پر قبضے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب محمد محقق کے حالیہ بیانات، جن میں انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت اور خطے میں تشدد کے خاتمے پر زور دیا تھا، سوشل میڈیا پر زیر بحث آئے۔

ذرائع کے مطابق یکم مارچ کو طالبان فورسز نے کابل میں واقع راہِ فردا ٹی وی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا، عملے کو حراست میں لینے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نشریاتی آلات اپنی تحویل میں لے لیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دفتر کی عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور چینل کی تمام نشریاتی سرگرمیاں معطل ہیں۔

راہِ فردا ٹی وی 2006 میں قائم کیا گیا تھا اور یہ چینل افغانستان کی سیاسی صورتحال، سماجی مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی پروگرام نشر کرنے کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چینل کی بندش کو افغانستان میں آزادیٔ اظہار کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب محمد محقق کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق محقق نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی تھی اور خطے میں امن و استحکام پر زور دیا تھا، تاہم بعض حلقوں نے اسے سیاسی رنگ دے کر کارروائی کا جواز بنایا۔

طالبان حکام کی جانب سے اس کارروائی پر تاحال باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں تنقیدی آوازوں اور آزاد میڈیا پر دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور صحافتی تنظیموں نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا اداروں کے تحفظ اور اظہارِ رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف افغانستان کی داخلی سیاست بلکہ خطے کی سفارتی فضا پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب علاقائی سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔

متعلقہ مضامین

1981 میں ایک بم حملے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ اسی سال صدر منتخب ہوئے۔ 1980 سے جاری ایران عراق جنگ نے ان کے دورِ صدارت کو شکل دی۔ اگرچہ اس وقت زیادہ اختیارات وزیرِ اعظم کے پاس تھے، مگر خامنہ ای نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے اور دفاعی و سلامتی معاملات میں اپنی گرفت مضبوط کی۔

March 1, 2026

علی خامنہ ای 17 جولائی 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے، جو ایران کا ایک مقدس شہر ہے اور امام رضا کے مزار کی وجہ سے معروف ہے۔ ان کے والد، آیت اللہ جواد خامنہ ای، ایک آذربائیجانی-ایرانی شیعہ عالمِ دین تھے جو سخت مذہبی نظم و ضبط کے قائل تھے۔ ان کا خاندان نہایت سادہ اور قناعت پسند زندگی گزارتا تھا۔

March 1, 2026

دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اس موقع پر ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کے خلاف اصولی موقف اپنانے پر پاکستان، چین اور روس کا شکریہ ادا کیا ہے۔

March 1, 2026

ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سفارتی اور اخلاقی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی ایران کے خلاف حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

March 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *