طالبان حکومت کے نائب ترجمان ملا حمداللہ فطرت نے پاکستان پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے جاری کشیدگی اور مسائل کی ذمہ داری مکمل طور پر پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے تجارتی راستوں کی بندش اور افغان مہاجرین کے معاملے پر دباؤ کو بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
تجارتی راستوں کی بندش پر تنقید
ملا حمداللہ فطرت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ راستوں کی بندش اور افغان مہاجرین پر دباؤ پاکستان کی جانب سے ڈالا گیا ہے، جو بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔ تجارتی راستے بھی پاکستانی فریق نے بند کیے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی نقل و حرکت کی رکاوٹوں نے افغان معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
افغان عوام کے مؤقف کی ترجمانی
طالبان کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ “افغان عوام کبھی بھی مسائل کے خواہاں نہیں رہے۔” ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ہمیشہ پڑوسی ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کے خواہش مند رہا ہے، لیکن پاکستان کی جانب سے مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے استعمال کا الزام
فطرت نے مزید سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں پیدا ہونے والے مسائل کی ذمہ داری بھی پاکستان پر ہی عائد ہوتی ہے، اور وہ تجارتی راستوں اور افغان مہاجرین کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی، تجارتی مسائل اور مہاجرین کی واپسی کے معاملات پر تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستان کی طرف سے بارہا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔
پس منظر اور حالیہ تنازعات
گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں متعدد اہم محاذوں پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی حکام نے افغان سرحد سے ملک کے اندر دہشتگردی کے واقعات میں تشویشناک اضافے کی نشاندہی کی ہے، جس کے جواب میں سرحدی کنٹرول کے اقدامات سخت کیے گئے ہیں۔
ان اقدامات میں اہم تجارتی گزرگاہوں، خاص طور پر طورخم اور چمن بارڈر کراسنگز، پر عبور میں رکاوٹیں شامل ہیں، جس کا دونوں طرف کی مقامی معیشتوں پر فوری منفی اثر پڑا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان کی جانب سے غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کی واپسی کے عمل میں تیزی نے انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، جس پر بین الاقوامی تنظیمیں بھی تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک پیچیدہ تنازع کی صورت اختیار کر گئے ہیں، جس نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تاریخی طور پر کٹھن تعلقات کو ایک نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔