افغان طالبان کی وزارتِ دفاع نے ایک بار پھر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیا ہے، تاہم یہ دعوے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کی مستند رپورٹس سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔
افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے ایک بیان میں کہا کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہا اور ملک میں مکمل امن و استحکام موجود ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے بارہا اٹھائے گئے سرحد پار دہشت گردی کے خدشات کو داخلی ناکامیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔
تاہم، طالبان کے ان بیانات کو اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس جھٹلاتی ہیں، جن میں واضح طور پر اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں بیس سے زائد علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق مختلف شدت پسند گروہ افغانستان کی سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ، تربیتی مراکز اور لاجسٹک سہولتوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی دہشت گرد حملے کے بعد محض مذمتی بیانات جاری کرنا کسی حکومتی اتھارٹی کی ذمہ داری پوری نہیں کرتا۔ اصل ذمہ داری دہشت گردی کی منصوبہ بندی، مالی معاونت، تربیت اور سرحد پار نقل و حرکت کو روکنا ہے، جس میں طالبان حکومت واضح طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔
طالبان کی جانب سے پاکستان کے خدشات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دینا سرحد پار حملوں کے تسلسل، افغان سرزمین پر سرگرم نیٹ ورکس اور حملہ آوروں کے افغانستان سے جڑے شواہد کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ متعدد حملوں میں ملوث عناصر کے روابط، پناہ گاہیں اور کمانڈ اسٹرکچر افغانستان میں موجود ہونے کے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔
طالبان قیادت کی جانب سے اسلامی نظامِ حکومت کے دعوے بھی اس وقت سوالات کی زد میں آ جاتے ہیں جب شہری آبادی کو نشانہ بنانے والے مسلح گروہ بلا روک ٹوک سرگرم رہیں۔ ناقدین کے مطابق خواتین پر پابندیاں، تعلیم و روزگار سے محرومی اور آبادی کے نصف حصے کو عوامی زندگی سے خارج کرنا اسلامی اصولوں کے منافی ہے۔
اسی طرح طالبان کا نیا قانونی فریم ورک سماجی تفریق، اجتماعی سزاؤں اور شفاف عدالتی عمل سے انکار کو فروغ دیتا ہے، جسے متعدد اسلامی اسکالرز اسلامی فقہ سے متصادم قرار دے چکے ہیں۔ مذہب کو اختلافِ رائے دبانے اور تنقید کو جرم بنانے کے لیے استعمال کرنا انصاف اور جوابدہی کے اسلامی اصولوں کی نفی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شریعت کا حوالہ دے کر جبر کو جائز قرار دینا، جبکہ دہشت گرد گروہوں کو برداشت کرنا، دراصل حکومتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ افغانستان میں دہشت گرد پناہ گاہوں کا مسلسل موجود رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ یا تو دانستہ پالیسی ہے یا خاموش رضامندی، محض صلاحیت کی کمی نہیں۔
طالبان کا یہ مؤقف کہ دہشت گردی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے، افغان سرزمین سے ہونے والی سہولت کاری، لاجسٹکس اور کمانڈ اسٹرکچر کے ناقابلِ تردید شواہد کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ مزید برآں، دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے افغانستان کی سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے استعمال سے روکنے کا وعدہ کیا تھا، جس پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ مؤثر انسدادِ دہشت گردی کے لیے ریاستی کنٹرول، وسائل کی بندش اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی ناگزیر ہوتی ہے، جبکہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان میں یہ شرائط پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی حکومتی اتھارٹی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مکمل علاقائی کنٹرول اور انتظامی اختیار رکھنے کے باوجود دہشت گردی کی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے۔ جب تک افغانستان سے سرحد پار تشدد کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، طالبان کے استحکام اور امن کے دعوے عملی طور پر کھوکھلے ثابت ہوتے رہیں گے۔