سنیچنگ کے دوران راہزنوں نے 10 شہریوں کو زخمی بھی کیا۔ شہر میں اغوا کے 29 جبکہ اغوا برائے تاوان کے 9 اور بچوں کے اغوا کے 8 واقعات سامنے آئے۔

November 28, 2025

یہ اقدام حکام کے مطابق انسانی حقوق کی نگرانی اور بیرون ملک مقیم افغان شہریوں کے رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے کیا گیا ہے۔

November 28, 2025

ٹرمپ انتظامیہ نے 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کے امیگریشن کیسز کا ازسرِنو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے جن مہیں افغانستان، ایران سرفہرست ہیں جبکہ پاکستان اس فہرست میں شامل نہیں ہے

November 28, 2025

وزارت نے چین اور تاجکستان کے لیے گہرے افسوس کے ساتھ اس واقعے کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ “حکومتِ افغانستان، حکومتِ تاجکستان کو مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے” اور واقعے کے تمام عوامل جاننے کے لیے “اطلاعات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور مشترکہ تحقیقات” کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔

November 28, 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو تصدیق کی کہ 20 سالہ سارہ بیکسٹرم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں، جبکہ ان کے ساتھی 24 سالہ اینڈریو وولف زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

November 28, 2025

طالبان کا بھارت کی جانب رُخ: وقتی فائدہ اور دیرپا نقصانات

کابل کا بھارت کی طرف جھکاؤ اُن سیکیورٹی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتا جو پاکستان، ایران، چین، روس اور وسطی ایشیا کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کی بنیاد ہیں۔
طالبان کا بھارت کی جانب رُخ: وقتی فائدہ اور دیرپا نقصانات

ریاستیں اس بات سے نہیں پہچانی جاتیں کہ وہ باہر کس سے تعلقات بناتی ہیں، بلکہ اس سے کہ وہ اپنے گھر کی ذمہ داریاں کتنی سنجیدگی سے نبھاتی ہیں۔

November 20, 2025

جب افغانستان کے وزیرِ صنعت و تجارت نورالدین عزیزی پانچ روزہ سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچ رہے ہیں، پاکستان اس پیشرفت کو حیرت سے نہیں بلکہ ایک ایسے رجحان کی توثیق کے طور پر دیکھ رہا ہے جو مدتوں سے واضح ہے۔ یہ دورہ اور اس سے پہلے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کا اقوامِ متحدہ سے حاصل خصوصی استثنیٰ کے تحت آٹھ روزہ سفارتی مصروفیات کا سلسلہ اس حقیقت کو پھر نمایاں کرتا ہے جس کی نشاندہی اسلام آباد طویل عرصے سے کرتا رہا ہے: دباؤ بڑھنے پر طالبان کا نظریاتی بیانیہ ہمیشہ سیاسی ضرورت کے آگے جھک جاتا ہے۔


بھارت نے وہی خلا پُر کیا ہے جو کابل نے اپنے پڑوسیوں کے جائز سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرکے پیدا کیا۔

پاکستان کے لیے یہ لمحہ الجھن کا نہیں بلکہ وضاحت کا ہے۔ 2021 سے دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ طالبان کی حکمرانی کسی منظم حکمتِ عملی کے بجائے وقتی ضرورتوں پر مبنی ہے۔ اصل تشویش افغانستان کے خارجہ تعلقات میں وسعت نہیں, پاکستان نے کبھی اس کی مخالفت نہیں کی بلکہ قریبی ہمسایوں کے جائز مطالبات کو پسِ پشت ڈال کر دُور دراز ملکوں سے تعلقات بڑھانے کا انتخاب ہے۔

چار دہائیوں کی سرمایہ کاری

سوویت قبضے کے دوران پاکستان کی قربانی محض علامتی نہیں تھی؛ یہ بنیادی نوعیت کی تھی۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی، مجاہدین کی مزاحمت کے لئے لوجسٹک سپورٹ، اور جنگ کے سماجی و معاشی اثرات برداشت کرنا—یہ سب ایسی ذمہ داریاں تھیں جن کا کوئی دوسرا ہمسایہ شریک نہ تھا۔

پہلی طالبان حکومت کے دوران بھی پاکستان اُن چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے انہیں سفارتی طور پر تسلیم کیا۔


اگست 2021 کے بعد بھی پاکستان نے انسانی بہاؤ کو سنبھالا، سرحدیں کھولے رکھیں، اور عالمی سطح پر طالبان کے ساتھ تعمیری تعامل کی وکالت کی۔ مگر اس کے باوجود طالبان قیادت نے مختصر عرصے میں نئی دہلی کے سیاسی تماشوں کو ترجیح دی اور اس ہمسائے کے حقیقی خدشات کو نظرانداز کیا جس کی استحکام افغانستان کے اپنے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

یہ معاملہ وفاداری کا مطالبہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت کا ہے جسے کوئی ریاست محض خواہش سے بدل نہیں سکتی۔

اصل مسئلہ: حکمتِ عملی نہیں، سیکیورٹی

اسلام آباد بارہا واضح کر چکا ہے کہ افغانستان کا تجارتی تنوع اُس کا خودمختار حق ہے۔
لیکن جو چیز کسی بھی پڑوسی ملک کیلئے ناقابلِ قبول ہے—خواہ وہ پاکستان ہو، چین، ایران یا وسطی ایشیا-وہ یہ ہے کہ افغان سرزمین سے مسلح گروہ آزادانہ کارروائیاں جاری رکھیں۔

دو ہزار اکیس کے بعد پاکستان پر سرحد پار حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تحریکِ طالبان پاکستان کے سینئر کمانڈر افغان شہروں میں آزادانہ گھومتے ہیں۔ ایسے شواہد جو کئی علاقائی سیکیورٹی اداروں نے جمع کیے ہیں۔


پاکستان نے ٹھوس انٹیلی جنس، ٹھکانے، کوآرڈینیٹس اور باقاعدہ ڈوزیئر فراہم کیے۔ جواب کبھی انکار، کبھی ذمہ داری ٹالنے پر مشتمل رہا اور اکثر اسے پاکستان کا “اندرونی مسئلہ” قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ طرزِ عمل ناقابلِ عمل ہے۔ کوئی ملک ایسے ہمسائے کو کھلی تجارت، رعایتیں اور سیاسی نرمیاں نہیں دے سکتا جہاں سے مسلسل حملے ہو رہے ہوں۔

ایسے ماحول میں کابل کی نئی دہلی کی طرف سفارتی گرمجوشی حکمتِ عملی سے زیادہ فرار کا راستہ محسوس ہوتی ہے—بیرون ملک تاثر سنوارنے کی کوشش، جبکہ اندرونی ذمہ داریاں تشنہ رہتی ہیں۔

اسلامی برادری: دعویٰ زیادہ، عمل کم

طالبان طویل عرصے تک پاکستان کے ساتھ تعلقات کو “امت”، “بھائی چارے” اور “اسلامی یکجہتی” کی زبان میں بیان کرتے رہے۔ مگر جیسے ہی سرحدی نظم و نسق، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد کی قبولیت، یا انسدادِ دہشت گردی جیسے حقیقی معاملات سامنے آئے—یہ بھائی چارہ فوراً کمزور پڑ گیا۔

اس کے برعکس بھارت جو طالبان کے سخت ترین مخالفین، شمالی اتحاد، کی پشت پناہی کرتا رہا اور جس کی پالیسیوں سے خود بھارتی مسلمان متاثر ہیں؛ آج طالبان کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔
یہ تضاد نہ پوشیدہ ہے، نہ مسلم دنیا سے اوجھل۔

پاکستان کی 2,611 کلومیٹر طویل سرحد حتیٰ کہ مشکل حالات میں بھی کھلی رہی، انسانی امداد اور تجارت کا راستہ بنتی رہی۔ اس کے باوجود کابل کا سرحدی نظم و ضبط کی مخالفت اور پاکستان مخالف گروہوں کی سرگرمیوں پر چشم پوشی، بھارت کے ساتھ بے تحاشا سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ شدید تضاد میں کھڑی ہے۔

کشمیر: خاموشی جو بہت کچھ کہہ رہی ہے

کشمیر، جسے طالبان برسوں اپنے بیانیے کا حصہ بناتے رہے، اب نئی دہلی کے مسلسل دوروں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے باوجود ان کی زبان پر نہیں آتا۔


آرٹیکل 370 کی منسوخی، کشمیریوں کی گرفتاریاں، یا وہاں کے بگڑتے انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک جملہ بھی نہیں۔

یہ خاموشی نظریاتی بلوغت نہیں، سفارتی سودے بازی ہے۔
اور عالمی سیاست میں بعض اوقات خاموشیاں بیانات سے زیادہ واضح پیغام دیتی ہیں۔

جغرافیہ: ایک حقیقت

افغانستان کی بھارت نواز پالیسی وقتی توجہ حاصل کرسکتی ہے، مگر خطے کی معاشی اور جغرافیائی حقیقتیں نہیں بدل سکتیں۔ افغانستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے۔ اس کی تجارت کا زیادہ حصہ پاکستان کے راستے ہی ہوتا ہے۔


سیاست کچھ بھی کہے، افغان تاجر آج بھی کراچی، طورخم اور چمن پر انحصار کرتے ہیں، کیونکہ متبادل راستے مہنگے، مشکل اور محدود ہیں۔

چابہار راستہ معاون ثابت ہوسکتا ہے، متبادل نہیں۔


جغرافیہ نظریات کا محتاج نہیں؛ یہ حقیقت اور زمینی تقاضوں کا کھیل ہے۔ افغانستان کی کمزور معیشت سیاسی علامتوں پر مبنی مہنگے تجربات کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

پاکستان کا مؤقف: مضبوط، واضح، غیر متزلزل

پاکستان کو کابل کے بھارت جھکاؤ سے نہ خطرہ ہے نہ بے چینی۔
اسلام آباد کی پالیسی ادارہ جاتی اصولوں پر قائم ہے:

  • محفوظ سرحدیں
  • ٹی ٹی پی کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات
  • تعمیری علاقائی روابط
  • اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام

یہ مطالبات نہیں، وہ بنیادی اصول ہیں جن پر ہر ذمہ دار ریاست عمل کرتی ہے۔ یہی مؤقف چین، روس، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کا بھی ہے جنہیں افغان سرزمین سے ملتی جلتی سیکیورٹی شکایات ہیں۔

آگے کا راستہ: ذمہ داریاں پہلے، دُور کے عزائم بعد میں

کوئی بھی مستحکم افغان خارجہ پالیسی اُس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک کابل اپنے قریبی پڑوسیوں کے تحفظ کو نظر انداز کرکے دور دراز ملکوں کی جانب دیکھے۔


بھارت سے تجارتی یادداشتیں وقتی سرخیاں بنا سکتی ہیں؛ مگر ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں بحران پیدا کرتی ہیں۔

طالبان یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ

  • سرحد کی تسلیم شدہ حیثیت مسترد کریں، پھر بھی آزادانہ نقل و حرکت کا مطالبہ کریں۔
  • بھارت سے سرمایہ کاری مانگیں، مگر بھارت مخالف گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے دیں۔
  • پاکستان سے تعاون چاہیں مگر پاکستان کے بنیادی سیکیورٹی خدشات پر توجہ نہ دیں۔

اختیار کابل کے پاس ہے۔ پہلے ذمہ داریاں، پھر خواہشات۔
بصورتِ دیگر افغانستان اُس خطے سے دور ہوتا جائے گا جس کے ساتھ جغرافیہ، تاریخ اور معیشت نے اسے لازمی طور پر جوڑا ہے۔

افغانستان اس وقت ایک موڑ پر کھڑا ہے۔ وہ یا تو اپنے ہمسایوں کے ساتھ دیرپا استحکام کا راستہ چُن سکتا ہے، یا پھر دور دراز ملکوں کی عارضی توجہ کے پیچھے دوڑ سکتا ہے۔
پہلا راستہ مستقبل دیتا ہے؛ دوسرا صرف تالیاں دیتا ہے بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے۔

ریاستیں اس بات سے نہیں پہچانی جاتیں کہ وہ باہر کس سے تعلقات بناتی ہیں، بلکہ اس سے کہ وہ اپنے گھر کی ذمہ داریاں کتنی سنجیدگی سے نبھاتی ہیں۔ جب تک کابل اس حقیقت کو قبول نہیں کرتا، وہ عدمِ استحکام جو افغانستان برآمد کرتا ہے، خطے پر اسی شدت سے واپس آئے گا۔

دیکھیں: غزنی میں افغان طالبان کے فیصلوں سے افغان شہری بُری طرح متاثر

متعلقہ مضامین

سنیچنگ کے دوران راہزنوں نے 10 شہریوں کو زخمی بھی کیا۔ شہر میں اغوا کے 29 جبکہ اغوا برائے تاوان کے 9 اور بچوں کے اغوا کے 8 واقعات سامنے آئے۔

November 28, 2025

یہ اقدام حکام کے مطابق انسانی حقوق کی نگرانی اور بیرون ملک مقیم افغان شہریوں کے رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے کیا گیا ہے۔

November 28, 2025

ٹرمپ انتظامیہ نے 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کے امیگریشن کیسز کا ازسرِنو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے جن مہیں افغانستان، ایران سرفہرست ہیں جبکہ پاکستان اس فہرست میں شامل نہیں ہے

November 28, 2025

وزارت نے چین اور تاجکستان کے لیے گہرے افسوس کے ساتھ اس واقعے کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ “حکومتِ افغانستان، حکومتِ تاجکستان کو مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے” اور واقعے کے تمام عوامل جاننے کے لیے “اطلاعات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور مشترکہ تحقیقات” کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔

November 28, 2025

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *